
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید 15 روز کی توسیع کردی ہے، جس کے بعد ٹیکس دہندگان اب 31 اکتوبر 2026 تک اپنے گوشوارے جمع کراسکیں گے۔ ایف بی آر نے تاریخ میں دوسری بار توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جبکہ اب تک 69 لاکھ افراد اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کراچکے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق، انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی ابتدائی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی گئی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 15 اکتوبر کردیا گیا تھا۔ اب دوسری بار توسیع کرتے ہوئے نئی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔
ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق، مختلف تجارتی تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کے پیش نظر تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ اس فیصلے سے انفرادی ٹیکس دہندگان، کاروباری اداروں اور کمپنیوں کو اپنی ٹیکس ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔
تجارتی تنظیموں اور کاروباری اداروں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا تھا کہ گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ بڑھائی جائے، کیونکہ ٹیکس دہندگان کو مقررہ مدت میں گوشوارے مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
ٹیکس ماہرین نے بھی گوشوارے کا حتمی فارم تاخیر سے جاری ہونے پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2 ستمبر 2026 کو حتمی فارم جاری ہونے کے باعث ٹیکس دہندگان کو گوشوارے تیار کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ٹیکس ماہر فضل فراز نے بزنس ریکارڈر کو بتایا تھا کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے کا مسودہ 7 مئی 2026 کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237(3) کے تحت ایس آر او 835(I)/2026 کے ذریعے جاری کیا گیا تھا، جبکہ حتمی فارم 2 ستمبر 2026 کو ایس آر او 1495(I)/2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیا گیا۔
فضل فراز کے مطابق، قانون کے تحت ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے تین ماہ کی مدت دینا ضروری تھا۔
کراچی کی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر شیخ عمر ریحان نے بھی ایف بی آر کے آن لائن آئی آر آئی ایس پورٹل میں مسلسل تکنیکی خرابیوں اور سست رفتاری کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت اور ایف بی آر سے آخری تاریخ میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔
اسی طرح حیدرآباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر ندیم احمد صدیقی، سینئر نائب صدر محمد فہد میاں اور نائب صدر عرفان اربیانی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور چیئرمین ایف بی آر سے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھانے کی اپیل کی تھی۔
تینوں عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ پہلے دی گئی توسیع کے باوجود تاجروں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور ٹیکس مشیروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں گوشواروں کے نئے فارم، اضافی معلومات فراہم کرنے کی شرائط، ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی مطابقت اور آئی آر آئی ایس پورٹل کی تکنیکی خرابیاں شامل ہیں۔
آئی آر آئی ایس، یعنی انٹیگریٹڈ ریونیو انفارمیشن سسٹم، پاکستان کا سرکاری ڈیجیٹل ٹیکس نظام ہے جسے ایف بی آر چلاتا ہے۔ اس کے ذریعے ٹیکس دہندگان اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں۔