
امریکی ماہرین نے ایک ایسا تجرباتی ڈرون تیار کیا ہے جو پرواز کے دوران تیزی سے گھوم کر اپنی واضح شکل چھپا لیتا ہے اور دیکھنے والوں کو ایک دھندلے، شفاف سے ہالے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ ’فینٹم ٹوئسٹ‘ نامی اس ڈرون میں چھپنے کے لیے نہ خاص رنگ استعمال کیے گئے ہیں اور نہ ہی اسے شفاف بنانے کے لیے روایتی طریقے اپنائے گئے ہیں، بلکہ یہ انسانی آنکھ کی حرکت کو سمجھنے اور دیکھنے کی صلاحیت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں جنگلی حیات کی نگرانی، قدرتی ماحول کا جائزہ لینے اور عمارتوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کا مقصد ڈرون کی موجودگی کو اس حد تک غیر نمایاں کرنا ہے کہ لوگ یا جانور اسے دیکھ کر فوری طور پر متوجہ نہ ہوں۔
اس تحقیق کے نتائج 16 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقدہ ’روبوٹکس، سائنس اینڈ سسٹمز‘ کانفرنس میں پیش کیے گئے۔ تحقیق کے پہلے مصنف اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں کمپیوٹنگ اور مکینیکل انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مائیکل روبینسٹائن کے مطابق، عام طور پر ڈرون کو چھپانے کے لیے اس کی ظاہری شکل کو اردگرد کے ماحول جیسا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن ان کی ٹیم نے یہ جاننے پر توجہ دی کہ خود ڈرون کو انسانی آنکھ کی بصری صلاحیتوں کے مطابق کس طرح ڈیزائن کیا جاسکتا ہے۔
تیزی سے گھومنے کی تکنیک کیسے کام کرتی ہے؟
عام کواڈ کاپٹر ڈرون میں چار پروپیلر ہوتے ہیں، جو اسے ہوا میں اٹھاتے اور مستحکم رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کے پروپیلر تیزی سے گھومنے کے باعث دھندلے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ڈرون کا مرکزی جسم اپنی واضح شکل برقرار رکھتا ہے، جس سے انسانی آنکھ اسے آسانی سے پہچان لیتی ہے۔
فینٹم ٹوئسٹ کا ڈیزائن اس سے مختلف ہے۔ اس میں ایک موٹر اور ایک پروپیلر استعمال کیا گیا ہے۔ پروپیلر ایک سمت میں گھومتا ہے، جبکہ ڈرون کا پورا جسم اس کے مخالف سمت میں گردش کرتا ہے۔ اس طرح اس کے مختلف حصے مسلسل حرکت میں رہتے ہیں اور کوئی ایک ساکن حصہ نمایاں نہیں ہوتا، جسے دیکھنے والا آسانی سے پہچان سکے۔
محققین کے مطابق، یہ ڈرون ایک سیکنڈ میں تقریباً 25 مرتبہ گھومتا ہے۔ اس تیز رفتار گردش کے باعث انسانی آنکھ اس کی الگ الگ ساختوں کو واضح طور پر نہیں دیکھ پاتی اور وہ ایک دھندلے سے نشان کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ عام کواڈ کاپٹر کے مقابلے میں بصری طور پر تقریباً 10 گنا کم نمایاں ہے۔
اس کی بنیادی وجہ حرکت کے دوران پیدا ہونے والا دھندلا پن ہے، جسے انگریزی میں ’موشن بلر‘ کہا جاتا ہے۔ جب کوئی چیز بہت تیزی سے حرکت کرتی ہے تو آنکھ کو اس کی مکمل شکل اور کناروں کو واضح طور پر سمجھنے کے لیے کافی وقت نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں اس کی شکل دھندلی محسوس ہوتی ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ اور کمپیوٹر وژن کی ماہر ایما الیگزینڈر کے مطابق، انسانی آنکھ بصری معلومات کو سمجھنے کے لیے ایک مختصر وقت میں جمع کرتی ہے، جس کا عمل کسی حد تک کیمرے کے ایکسپوژر ٹائم سے مشابہ ہے۔ جب کوئی چیز انتہائی تیزی سے گھومتی ہے تو اس کے الگ الگ کنارے دھندلے ہوکر ایک دوسرے میں مدغم دکھائی دینے لگتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے ہزاروں ڈیزائن تیار کیے گئے
فینٹم ٹوئسٹ کی تیاری کے لیے محققین نے کمپیوٹر ماڈلز، اے آئی اور مختلف حسابی طریقوں کی مدد لی۔ سب سے پہلے کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے ڈرون کے تقریباً 20 ہزار ممکنہ ڈیزائن تیار کیے گئے، جن میں موٹر، پروپیلر، بیٹری، سرکٹ بورڈ اور توازن برقرار رکھنے والے وزن کو مختلف جگہوں پر رکھا گیا تھا۔
اس کے بعد مصنوعی ذہانت اور دیگر اصلاحی نظاموں نے ان ڈیزائنز کا جائزہ لیا اور ان میں تبدیلیاں کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کون سا ڈیزائن مختلف زاویوں سے دیکھنے پر سب سے کم نمایاں ہوگا۔ اس عمل میں یہ بھی یقینی بنانا ضروری تھا کہ ڈرون فضا میں مستحکم انداز میں پرواز کرسکے۔
محققین نے ہر ممکنہ ڈیزائن کی گردش کو کمپیوٹر پر نقل کیا اور آسمان، درختوں اور عمارتوں سمیت حقیقی دنیا کے 100 مختلف پس منظر پر اس کی تصاویر کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد انسانی بصارت کی نقل کرنے والے ایک ماڈل کے ذریعے اندازہ لگایا گیا کہ کون سے ڈیزائن اپنے ماحول میں زیادہ بہتر طور پر مدغم دکھائی دیتے ہیں۔
ابتدائی جانچ میں سب سے کم نمایاں قرار پانے والے 500 ڈیزائن منتخب کیے گئے، جنہیں مزید بہتر بنانے کے لیے دوبارہ اسی عمل سے گزارا گیا۔ بالآخر محققین نے ایک ایسے ڈیزائن کا انتخاب کیا جسے عملی طور پر تیار کیا جاسکتا تھا۔
حتمی ڈرون کے مختلف پرزے ایک جگہ جمع کرنے کے بجائے مختلف بلندیوں اور زاویوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ ان کے درمیان خالی جگہ بھی رکھی گئی ہے تاکہ تیزی سے گھومنے کے دوران تمام پرزے مل کر ایک واضح اور ٹھوس شکل اختیار نہ کرلیں۔ اس ترتیب سے ڈرون کا مجموعی خاکہ انسانی آنکھ کے لیے پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
جنگلی حیات اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں مدد
محققین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کا ایک ممکنہ استعمال پرندوں کے گھونسلوں اور ان کی افزائش کے مقامات کی نگرانی ہے۔ عام ڈرون کی موجودگی سے پرندے خوف زدہ ہوکر اپنے گھونسلے چھوڑ سکتے ہیں یا وہاں سے اڑ سکتے ہیں، جبکہ کم نمایاں ڈرون کے ذریعے ان کے قدرتی رویوں کا مشاہدہ کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
اسی طرح دلدلی علاقوں اور آبی پرندوں کی آبادی کا جائزہ لیتے وقت بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، تاکہ ڈرون کی موجودگی سے پرندوں کے جھنڈ منتشر نہ ہوں۔ اس کے علاوہ پرانی عمارتوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کا معائنہ کرتے وقت بھی کم نمایاں ڈرون مفید ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کی موجودگی سے لوگوں کے معمول کے رویوں میں تبدیلی آنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔
تاہم، فینٹم ٹوئسٹ فی الحال ایک تجرباتی نمونہ ہے اور اسے مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہونے والا ڈرون نہیں کہا جاسکتا۔ اس کا گھومتا ہوا پروپیلر اب بھی خاصی آواز پیدا کرتا ہے، جبکہ اس میں استعمال ہونے والی باریک تاریں اور سہارا دینے والی سلاخیں بھی کچھ حد تک دکھائی دیتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے اگلے مراحل میں زیادہ شفاف مواد اور نسبتاً خاموش نظام استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر ان مسائل پر قابو پالیا گیا تو مستقبل میں ایسے ڈرونز تیار کیے جاسکتے ہیں جو اپنے اردگرد کے ماحول میں کم نمایاں رہتے ہوئے نگرانی اور معائنے کے کام انجام دے سکیں۔ تاہم، ان کے عملی استعمال اور کارکردگی کا انحصار آئندہ تجربات پر ممکن ہوگا۔