ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے والی فیکٹریاں محفوظ ہیں: بلومبرگ کا دعویٰ

امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے کہا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے والی فیکٹریاں محفوظ ہیں اور تہران اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائل اور جہاز شکن ہتھیار موجود ہیں، جبکہ ایک مغربی عہدیدار کے مطابق روس بھی ایران کو میزائل فراہم کر رہا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی آپریشنز کے دوران ایران کے جوہری پروگرام، میزائلوں، پیداواری تنصیبات اور بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی میزائل اور ڈرون فیکٹریوں کو محفوظ رکھا ہے، جس کے باعث وہ مستقبل میں ہتھیاروں کی پیداوار بحال کرنے اور اپنے ذخیرے میں دوبارہ اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ روس ایران کو میزائل فراہم کر رہا ہے۔ اس انکشاف کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت اور اسے بیرونی ممالک سے ملنے والی ممکنہ مدد سے متعلق بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائل اور جہاز شکن ہتھیار موجود ہیں۔ یہ ہتھیار زمینی اہداف اور بحری جہازوں کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ میزائل اور ڈرون بنانے والی تنصیبات کا محفوظ رہنا ایران کی دفاعی صلاحیت دوبارہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے بلومبرگ کے ان دعوؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے کہا ہے کہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر اور آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں، ہتھیار بنانے والی تنصیبات اور بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ بلومبرگ کی رپورٹ ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت برقرار رہنے اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles