
امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل سے سمندری طوفان ایسیاس ٹکرانے کے بعد 4 افراد ہلاک، جبکہ فلوریڈا، الاباما اور جارجیا میں 7 لاکھ صارفین بجلی سے محروم ہو گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طوفان ہفتے کی صبح امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل سے ٹکرایا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں نقصان اور بجلی کی بندش کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ اور حکام کے مطابق ہلاکتوں میں سے دو درخت گھروں پر گرنے کے باعث ہوئیں۔
فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے بتایا کہ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے کچھ ہی دیر بعد تک حکام کو تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ طوفان کے بعد بھی مختلف خطرات موجود ہیں۔
امریکی نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق طوفانی لہروں، اچانک سیلاب، تباہ کن ہواؤں اور بگولوں کا خطرہ برقرار ہے۔ ہفتے کے روز فلوریڈا کے شمال مغربی علاقے، جارجیا اور کیرولائنا کی بعض ریاستوں میں بگولوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
حکام کے مطابق فلوریڈا میں بجلی کی بحالی کو ترجیح دی جا رہی ہے، جب کہ شاہراہیں، پل اور ہوائی اڈے دوبارہ کھولنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ امدادی ٹیمیں مختلف علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
گورنر رون ڈی سینٹس نے ریاستی دارالحکومت ٹلہاسی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بجلی کی بحالی کے کام کی رفتار کا اندازہ نقصانات کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد لگایا جا سکے گا۔ ان کے مطابق بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے تقریباً 16 ہزار کارکنوں کو تیار رکھا گیا تھا۔
بجلی کی بندش کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے پاور آؤٹیج ڈاٹ یو ایس کے مطابق ہفتے کی دوپہر تک فلوریڈا میں تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار، الاباما میں ایک لاکھ 90 ہزار، جارجیا میں 43 ہزار اور مسیسیپی میں 17 ہزار صارفین بجلی سے محروم تھے۔
ادھر الاباما کی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے بتایا کہ ہیوسٹن کاؤنٹی میں درخت اور بجلی کی تاریں گرنے کے باعث سفر خطرناک ہوگیا ہے، جب کہ علاقے میں اچانک سیلاب کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ طوفان کے اثرات کے باعث کاؤنٹی کی تمام سڑکیں اگلے اعلان تک بند رہیں گی۔
آئیسیاس 2026 کے بحرِ اوقیانوس کے طوفانی موسم کا پہلا طوفان تھا، جو فلوریڈا کے ساحل سے ٹکرانے کے وقت کیٹیگری 2 کا سمندری طوفان تھا۔ نیشنل ہریکین سینٹر کے مطابق ہفتے کے روز اس کی شدت میں مزید کمی آنے اور ہواؤں کی رفتار کم ہونے کی توقع تھی، تاہم اندرونی علاقوں میں بھی تیز ہوائیں چل سکتی تھیں۔
طوفان کے باعث خلیج میکسیکو میں تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ تیل و گیس کمپنی شیل نے ہفتے کو بتایا کہ وہ خلیج میکسیکو میں اپنے مختلف پیداواری منصوبوں پر عملے کی واپسی شروع کر رہی ہے۔
کمپنی شیورون نے بھی اپنے پلیٹ فارمز پر عملے کی واپسی کے اقدامات تیز کرنے اور پیداوار مکمل طور پر بحال کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ کمپنی کے مطابق عملے کی واپسی کا عمل اتوار تک جاری رہنے کی توقع تھی۔
امریکی ادارے میرین منرلز ایڈمنسٹریشن کے مطابق ہفتے کے روز خلیج میکسیکو میں تیل کی تقریباً 69 فیصد اور قدرتی گیس کی 57 فیصد پیداوار بند تھی، جب کہ مجموعی پیداواری پلیٹ فارمز میں سے تقریباً 30 فیصد، یعنی 113 پلیٹ فارمز، خالی کرائے جا چکے تھے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ توانائی نے طوفان کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر سے 40 لاکھ بیرل تک خام تیل ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو طوفان سے نمٹنے کی تیاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ صورت حال قابو میں ہے۔
امریکی وزیرِ داخلہ برائے ہوم لینڈ سکیورٹی مارک وین مولن کے مطابق فلوریڈا اور الاباما میں ہنگامی حالت کے اعلانات منظور کیے گئے ہیں، تاکہ طوفان سے نمٹنے کے لیے وفاقی وسائل دستیاب رہیں۔
ادھر فلوریڈا کے ساحلی شہر پینساکولا میں پینے کے پانی کی قلت کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ شہر کے میئر کے مطابق طوفان سے پینساکولا ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا، جس کے باعث اگلے اعلان تک تجارتی پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ یہ ہوائی اڈا فلوریڈا کے دس بڑے ہوائی اڈوں میں شامل ہے۔
طوفان کے بعد حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فوری خطرات کم ہونے کے باوجود گرے ہوئے درختوں، بجلی کی تاروں اور سیلاب زدہ علاقوں کے باعث احتیاط ضروری ہے۔