نئی دہلی احتجاج: ابھیجیت دیپکے سمیت کئی رہنما طیارے سے گرفتار

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے مجوزہ احتجاج سے قبل سیکیورٹی کے غیر معمولی اور انتہائی سخت انتظامات کے تحت پورے شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

دہلی پولیس اور انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے سی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ابھيجيت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ایئر انڈیا کے طیارے کے اندر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

اس کے علاوہ معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو گروگرام سے حراست میں لیا گیا، جبکہ تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کرنے والے ڈیڑھ سو سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

نئی دہلی کے اہم راستوں پر خاردار تاریں اور ملٹی لیئر بیری کیڈز لگا کر مرکزی انتظامی علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

مظاہرے کو روکنے کے لیے دہلی پولیس، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور پیرا ملٹری فورسز کے 25 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعينات کیا گیا ہے۔

اس نئے احتجاج کی کال ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری اور فارم سکس میں تبدیلیوں کے خلاف دی گئی تھی، تاہم دہلی پولیس نے امن و امان کے خدشات اور وقت پر باقاعدہ درخواست جمع نہ کرانے کا جواز پیش کرتے ہوئے اس مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بھارتی ناگرک سرکشا سنہیتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

طیارے کے اندر سے سی جے پی رہنماؤں کی حراست کے دوران شدید تلخ کلامی کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس میں ابھيجيت دیپکے کو پولیس اہلکاروں سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتے اور حقوق کی جنگ کے لیے آئے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اپنے رہنماؤں کی طیارے کے اندر سے حراست کو فاشسٹ اور جابرانہ اقدام قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور نقل و حرکت کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے ۱۵ اضلاع سے چھ سو سے زائد افراد کو پہلے ہی تحویل میں لیا گیا تھا۔

اس مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دارالحکومت کا ٹرانسپورٹ اور تجارتی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔

شہری انتظامیہ نے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی کے راستے بند کر دیے ہیں اور نئی دہلی کے مرکزی علاقوں میں 24 گھنٹے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر آنے والی 250 سے زائد ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

تجارتی مرکز کنوٹ پلیس کے تاجروں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث مارکیٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں بغیر اجازت کسی بھی عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles