نوبیل انعام 2026 برائے طب: دماغ پر تحقیق کرنے والے 3 سائنس دان فاتح

جرمنی اور امریکا کے تین سائنسدانوں نے دماغ میں روشنی کے ذریعے اعصابی خلیوں کی سرگرمی کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے کے طریقے پر اہم تحقیق پر 2026 کا نوبیل انعام برائے طب حاصل کرلیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نوبیل اسمبلی کا کہنا ہے کہ امریکی سائنسدان کارل ڈائسرورتھ جبکہ جرمنی کے پیٹر ہیگیمان اور جارج ناگل کو ’’روشنی سے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس‘‘ سے متعلق دریافتوں پر اس اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

نوبیل اسمبلی کے سیکریٹری جنرل تھامس پرل مین نے بتایا کہ آپٹو جینیٹکس ایک ایسا طریقہ ہے جس کی مدد سے زندہ دماغ میں موجود مخصوص اعصابی خلیوں کو روشنی کے ذریعے فعال یا غیر فعال کیا جاسکتا ہے۔

تھامس پرل مین کے مطابق یہ طریقہ اب دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں دماغ کے راز جاننے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آپٹو جینیٹکس کیا ہے؟

آپٹو جینیٹکس دراصل روشنی اور جینیاتی تحقیق کو ملا کر کام کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے ذریعے سائنسدان مخصوص اعصابی خلیوں میں روشنی کے لیے حساس پروٹین پیدا کرتے ہیں، جس کے بعد روشنی ڈال کر ان خلیوں کی سرگرمی کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق سے دماغ کے مختلف حصوں میں اعصابی خلیوں کے کام کو سمجھنے میں سائنسدانوں کو مدد ملی ہے۔ مستقبل میں اس طریقے سے بعض اعصابی اور حسی بیماریوں کے علاج کے نئے راستے بھی کھلنے کی امید ہے۔

وہیں نوبیل اسمبلی کے مطابق آپٹو جینیٹکس کے استعمال سے ایسے افراد کی بینائی بحال کرنے کے تجربات بھی کیے جا رہے ہیں جو ریٹینائٹس پگمنٹوسا نامی بیماری کے باعث نابینا ہوچکے ہیں۔

ان تجربات میں آنکھ کے پردۂ بصارت، یعنی ریٹینا، میں روشنی کے لیے حساس پروٹین شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ روشنی کو دوبارہ اعصابی سگنل میں تبدیل کیا جاسکے۔

محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی کان کے اندر لگائے جانے والے کوکلیئر امپلانٹس کو بھی زیادہ بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس سے سماعت کے اعصاب کو موجودہ برقی آلات کے مقابلے میں زیادہ درست انداز میں متحرک کرنے کا امکان ہے۔

رواں برس 2026 کے نوبیل انعامات دینے کا آغاز آج شعبۂ طِب سے ہوگیا ہے، جس کے بعد فزکس، کیمسٹری، ادب اور امن کے نوبیل انعامات کا اعلان کیا جائے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طِب کے نوبیل انعام کی تقریب سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں ہوئی۔

خیال رہے گزشتہ برس طب کا نوبیل انعام تین سائنس دانوں میری ای برنکو، فریڈ ریمسڈیل اور ڈاکٹر شیمون ساکاگوچی کو دیا گیا تھا۔

انہیں یہ انعام اس تحقیق پر ملا تھا جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام جراثیم پر حملہ کیسے کرتا ہے اور اپنے ہی صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچانے سے کیسے روکتا ہے۔

سائنس دانوں کی تحقیق نے جسم کے مدافعتی نظام کو قابو میں رکھنے والے ایک اہم نظام، جسے ’’پیری فیرل امیون ٹالرنس‘‘ کہا جاتا ہے، کو سمجھنے میں اہم پیش رفت کی تھی۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت ایسی بیماریوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے جن میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے اپنے ہی خلیوں اور اعضا پر حملہ شروع کردیتا ہے۔

ان بیماریوں میں ٹائپ ون ذیابیطس، ریمیٹائڈ آرتھرائٹس اور لوپس جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

نوبیل انعامات کے موجودہ سلسلے میں آج طب کے انعام کے بعد منگل کو فزکس اور بدھ کو کیمسٹری کے نوبل انعامات کا اعلان ہوگا، جبکہ جمعرات کو ادب کے شعبے کے نوبیل انعام کا اعلان کیا جائے گا۔

جمعہ کو بھی نوبیل امن انعام دیا جائے گا، جبکہ نوبیل میموریل پرائز ان اکنامک سائنسز کا اعلان 12 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

رواں سال کے لیے نوبیل انعام کی رقم 12 ملین سویڈش کرنسی (کرونا) مقرر کی گئی ہے، جو تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے۔ یہ رقم کسی ایک فرد، چند افراد پر مشتمل گروپ یا کسی تنظیم کو انعام دیے جانے کی صورت میں بھی مقررہ رقم ہی ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس وینزویلا کی ماریا کورینا ماچاڈو کو نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انعام ملنے کے چند ہفتوں بعد ہی ماریا نے اپنا طلائی نوبیل تمغہ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ کو دے دیا تھا تاکہ وینزویلا میں جمہوریت کے لیے اپنی کوششوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles