
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم میں مزید 2 افسران کو شامل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد تفتیشی ٹیم کے ارکان کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا کیس کی تحقیقات میں ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیس کی تفتیش کے لیے تشکیل دی گئی ٹیم میں مزید 2 افسران کو شامل کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی حنیف خان اور انسپکٹر غلام نبی آفریدی کو تفتیشی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انسپکٹر غلام نبی آفریدی کو نئی تفتیشی ٹیم نے ازخود شامل کیا جب کہ ڈی ایس پی حنیف خان کو میر رضا کے اہل خانہ اور وکیل کی سفارش پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ڈی ایس پی حنیف خان جیو فینسنگ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جب کہ دونوں افسران کی شمولیت کے بعد میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم کے ارکان کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
قبل ازیں 11 اگست کو بھی میر رضا کیس کی تحقیقات مزید مؤثر بنانے کے لیے تفتیشی ٹیم میں 2 نئے افسران کا اضافہ کیا گیا تھا۔ ڈی ایس پی سراج الدین اور انسپکٹر محمد علی کی شمولیت کے بعد تفتیشی ٹیم کے ارکان کی تعداد 7 ہو گئی تھی۔
یاد رہے کہ تاجر میر رضا کی قبرکشائی کے بعد تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کی سربراہی ڈی آئی جی عامر فاروقی کررہے تھے۔ کمیٹی کے سیکرٹری ایس ایس پی آر آر ایف علی رضا جب کہ ٹیم ممبران میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم تجمل اور ایس آئی او زمان ٹاون چوہدری غضنفر ٹیم میں شامل تھے۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر کے گیسٹ ہاؤس کے باہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
گلستان جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے میر رضا کی 8 اگست کو کی گئی قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے تھے۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے جسم کے پیچھے کی طرف گولی لگنے کا نشان چھوٹا اور سامنے کی طرف بڑا ہے، ماہرین کے مطابق اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گولی پیچھے کی طرف سے لگی۔
میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹ چکی تھیں، سر اور چہرے پر زخموں کے کئی نشانات موجود تھے، دائیں ران پر تقریباً 12سینٹی میٹر طویل فریکچر اور زخم پایا گیا، جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر بھی خون کے دھبے ملے۔
8 اگست کو میر رضا کی قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بالکل مختلف پائی گئی، میر رضا کے جبڑے میں گہری چوٹ اور فریکچر کے شواہد ملے، ناک کی ہڈی اور چہرے کے مختلف حصوں پر بھی چوٹیں پائی گئیں۔