
مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے جنوبی کوریا، جاپان اور ہانگ کانگ میں انسانی زندگی، زراعت اور جانوروں کو متاثر کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر یانگسان میں 2 اگست کو درجہ حرارت 42.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جو سن 1904 کے موسمی ریکارڈ شروع ہونے کے بعد ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 9 لاکھ سے زائد مویشی اور 14 لاکھ سے زائد فارم میں رکھی جانے والی مچھلیاں مر چکی ہیں۔
گرمی کا اثر کسانوں پر بھی نمایاں ہوا ہے۔ یانگ گو کاؤنٹی کے کسان لی سانگ ہائوک نے آلو کی فصل زمین سے نکالی تو آلو نرم اور خراب ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا، ”یہ صرف ایک یا دو کھیتوں کی بات نہیں۔ میں اسے الفاظ میں کیسے بیان کروں؟ یہ بہت افسوسناک ہے۔“
گوانگ جو میں تربوز کے کاشتکار ہونگ کیونگ ہی نے بتایا کہ ان کے تربوز تین دن کے اندر خراب ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اندر سے سب کچھ اچھا تھا، مٹھاس بھی ٹھیک تھی، لیکن تین دن بعد یہ راتوں رات خراب ہوگیا۔ میں نے 50 سال کی کاشت کاری میں ایسا پہلی بار دیکھا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شدید گرم موسم کو ایسی صورتحال قرار دیا جس کا ہم نے پہلے کبھی سامنا نہیں کیا، اور کہا کہ ملک کے ہنگامی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ یہ موسم نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔
جاپان میں بھی کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری اور اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں پہلی بار 40 ڈگری سے زیادہ گرمی کے لیے ”کوکوشوبی“ یعنی انتہائی ظالمانہ گرم دن کی نئی اصطلاح استعمال کی گئی۔ ٹوکیو کے ایک چڑیا گھر میں شدید گرمی کے باعث تین شیروں کی مبینہ طور پر ہیٹ اسٹروک سے موت بھی ہوئی۔
ہانگ کانگ میں درجہ حرارت 36.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو وہاں سن 1884 سے جاری ریکارڈ میں سب سے زیادہ ہے۔ سابق ہانگ کانگ آبزرویٹری سربراہ لام چیو ینگ نے گرمی سے متعلق وارننگ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریڈ وارننگ کی حد واضح طور پر بہت زیادہ رکھی گئی ہے۔ اگر ریکارڈ توڑ درجہ حرارت بھی اسے متحرک نہیں کر سکتا تو کیا یہ صرف دکان کی کھڑکی سجانے کے لیے ہے؟
چین کے سنکیانگ میں جولائی کے دوران 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت بھی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شمالی کوریا میں رات کے وقت بھی درجہ حرارت 25 ڈگری سے نیچے نہیں گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں بڑھتی گرمی کی بڑی وجوہات میں موسمی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ایشیا میں 1991 سے 2025 کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار اس سے پہلے کی تین دہائیوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے کا امکان ہے، جس کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ کسانوں اور عام لوگوں کو بدلتے موسم کے مطابق تیار کرنا بھی ضروری ہے۔