والدین کا ڈی این اے میچ کر گیا، فرانزک رپورٹ میں لاش کی شناخت میر رضا کے طور پر ہوگئی


کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، قبر کشائی کے دوران لیے گئے نمونے اور میر رضا کے والدین کے ریفرنس سیمپلز میچ کر گئے ہیں، جس کے بعد کرائم سین سے ملنے والی لاش کی شناخت میر رضا کے طور پر ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق منگل کے روز میر رضا قتل کیس میں سندھ فارنزک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی ڈپارٹمنٹ نے ڈی این اے شناخت کا عمل مکمل کرلیا ہے۔
فارنزک رپورٹ کے مطابق کرائم سین سے ملنے والی لاش کے ڈی این اے نمونے میر رضا کے والدین کے ریفرنس سیمپلز سے میچ کر گئے ہیں، جس کے بعد لاش کی شناخت میر رضا کے طور پر تصدیق ہوگئی ہے۔
فارنزک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے گملے پر موجود خون کے نمونے بھی لاش کے خون کے نمونوں سے میچ کر گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فارنزک شواہد نے کرائم سین اور میر رضا کے درمیان تعلق کی بھی تصدیق کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ سندھ پولیس کے حوالے کردی ہے۔ میر رضا کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیکل بورڈ کی جانب سے تیار کی گئی تیسری رپورٹ بھی تفتیشی ٹیم کے حوالے کردی گئی ہے۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں فارنزک اور میڈیکل رپورٹس کو اہم شواہد کے طور پر تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے جب کہ تفتیشی ٹیم کیس کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
اس سے قبل میر رضا علی قتل کیس میں شدید تاخیر اور مبینہ غفلت کی خبروں کے بعد بالآخر جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے 6 نمونے موصول ہوئے تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ان موصول ہونے والے نمونوں میں سے 6 مقتول کی لاش سے حاصل کیے گئے ہیں جب کہ 2 نمونے ان کے والدین کے ہیں جو شناخت کی تصدیق کے لیے بطور ریفرنس استعمال ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق ان ٹیسٹ کی رپورٹ جلد از جلد جاری ہونے کا امکان ہے، جس سے سائنسی طور پر یہ معلوم ہو سکے گا کہ قبر کشائی کے بعد حاصل کی گئی لاش میر رضا کی ہی ہے یا نہیں۔

اس پیش رفت سے قبل، کیس کی تفتیش میں پولیس کی شدید غفلت اس وقت بے نقاب ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ ہفتے کے روز ہونے والی قبر کشائی کے دوران مجموعی طور پر 17 اہم فرانزک نمونے حاصل کیے گئے تھے، لیکن کئی روز گزرنے کے باوجود انہیں لیب نہیں پہنچایا گیا تھا۔
اس حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تمام نمونے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے اور ان سیمپلز کو لیبارٹری تک بروقت پہنچانا مکمل طور پر کیس کے تفتیشی افسر کی ہی ذمہ داری ہے۔

دوسری طرف کیس کے موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں حال ہی میں تفتیشی کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے اور وہ سابقہ ٹیم میں شامل نہیں تھے، اس لیے وہ نمونوں میں ہونے والی تاخیر پر فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ نئی ٹیم نے باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔
اس سنگین تاخیر پر مقتول کے اہلِ خانہ کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی این اے اور دیگر اہم نمونوں کے لیب نہ پہنچنے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور اس تاخیر پر متعلقہ تفتیشی افسران کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر فرانزک نمونوں کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بدنیتی ثابت ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ کیس میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
جبران ناصر نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہوں نے اور خود پولیس سرجن نے پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی تھی۔

جبران ناصر نے نئی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ میر رضا کا معاملہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کا کیس ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ خودکشی کے موقف پر اصرار کرنے سے سابقہ ٹیم کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی، اور اگر نئی ٹیم بھی ناکام رہی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔
مقتول کے وکیل نے واضح کیا تھا کہ پولیس کو تمام مشتبہ افراد اور اہم نکات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور اگلے تین سے چار روز میں تفتیش کی سمت بالکل واضح ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتداء میں اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی، تاہم عدالت کے حکم پر ہونے والی قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے سچائی اگل دی۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ مقتول کے جسم پر بدترین تشدد کیا گیا تھا، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی بھی پیچھے سے ماری گئی تھی، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔
تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کے ریکارڈ کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے ایک دوست عبداللہ سے بات کی تھی، جبکہ ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات ایسے ملے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles