
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کردیا ہے اور اس وقت اس اہم آبی گزرگاہ کا 100 فیصد کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔ انہوں نے ایران سے جنگی نقصانات کے ہرجانے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب کھلی ہے اور اس وقت اس پر صرف امریکا کا کنٹرول ہے۔ ان کے بقول امریکی بحریہ نے آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے صاف کردیا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی بحری موجودگی کو ’’فولادی دیوار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی کبھار بارودی سرنگیں بچھاتا ہے، تاہم امریکی فوج انہیں تلاش کرلیتی ہے۔ امریکا نے اپریل کے وسط سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سمیت تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ہفتے کو کہا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنے، خطے سے امریکی فوج واپس بلانے، جنگی ہرجانہ ادا کرنے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
ایرانی کونسل نے خطے میں ایران کے اتحادیوں پر امریکی حملے روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جنگی نقصانات کے معاوضے کے مطالبے کے جواب میں کہا کہ تہران کے مطالبے نے انہیں ایک ’’دلچسپ خیال‘‘ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اس کے بجائے ان امریکی شہریوں کے لیے معاوضہ ادا کرنا چاہیے جو ایران سے منسلک سڑک کنارے بم دھماکوں اور دیگر حملوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ان مظاہرین کے لواحقین کو بھی معاوضہ دیا جائے جن کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے گزشتہ 50 برس کے دوران انہیں ہلاک کیا۔
ٹرمپ کے ہرجانے کے مطالبے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تنازع میں ایک نیا معاملہ شامل ہوگیا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتا تھا۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ امریکی پابندیاں ایران کو ’’گھٹنے پر لے آئی ہیں‘‘۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن سفارت کاری ناکام ہونے پر پابندیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے اور جب یہ پابندیاں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں تو انہیں مزید سخت کردیتا ہے۔
انہوں نے امریکی پالیسی کو ’’پالیسی‘‘ کے بجائے ایک ایسی عادت قرار دیا جس سے واشنگٹن چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تعطل کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت تاحال محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ عالمی منڈی کے لیے بدستور اہم تشویش ہے۔
تازہ کشیدگی کے باعث پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت تقریباً 82 ڈالر 13 سینٹ فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 87 ڈالر 72 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں وقفے وقفے سے اضافہ ممکن ہے، تاہم مکمل علاقائی جنگ تاحال بنیادی خدشہ نہیں سمجھی جارہی۔