یہ رپورٹ برطانیہ کے تعلیمی نظام کے ایک ایسے پہلو کا احاطہ کرتی ہے جو ہزاروں نوجوانوں کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ فیصلوں پر اہم سوالات اٹھاتا ہے، یونیورسٹی کی ڈگری کو عموماً بہتر ملازمت، اچھی آمدنی اور محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک تازہ تجزیے نے اس تصور پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانیہ کے معروف پلیٹ فارم ڈیلی میل کے تازہ تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی کچھ معروف یونیورسٹیوں کے شعبوں میں ہر چار میں سے ایک طالب علم کو پانچ سال گزرنے کے بعد بھی باقاعدہ روزگار نہیں مل سکا۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال کریئیٹو آرٹس، ڈیزائن، بزنس، قانون اور سائیکولوجی جیسے شعبوں میں دیکھی گئی ہے۔
بعض یونیورسٹیوں میں تو حالات اس حد تک خراب ہیں کہ وہاں کے گریجویٹس کی اکثریت یا تو بے روزگار ہے یا پھر بہت ہی معمولی آمدنی پر کام کرنے پر مجبور ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس فہرست میں سب سے اوپر یونیورسٹی آف ویسٹ لندن کے کری ایٹو آرٹس اینڈ ڈیزائن سے متعلق کورسز ہیں، جہاں 23.7 فیصد گریجویٹس ڈگری مکمل کرنے کے پانچ سال بعد مستقل روزگار، مزید تعلیم یا خود روزگاری کے دائرے میں نہیں تھے۔ اس گروپ میں ملازمت کرنے والے گریجویٹس کی درمیانی سالانہ تنخواہ 24,900 پاؤنڈ رہی۔
دوسرے نمبر پر یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز رہے، جہاں 22.6 فیصد گریجویٹس مطلوبہ مستقل روزگار یا مزید تعلیم میں نہیں تھے۔ فہرست میں شامل تمام 20 کورس گروپس میں کم از کم ہر چھ میں سے ایک گریجویٹ اس صورتحال سے دوچار تھا۔

یہاں معاملہ صرف ملازمت نہ ملنے تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں یونیورسٹی کی تعلیم کئی طلبہ کو بھاری قرض کے ساتھ عملی زندگی میں داخل کرتی ہے۔ بہت سے گریجویٹس کی تعلیمی قرض کی رقم 50 ہزار پاؤنڈ سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ تین سال کی ٹیوشن فیس ہی ہر سال 9 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم، ان اعداد و شمار کو سمجھتے ہوئے ایک اہم پہلو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر کم روزگار شرح کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ڈگری بے فائدہ ہے۔ بعض شعبوں، خصوصاً تخلیقی صنعتوں میں، گریجویٹس مستقل نوکری کے بجائے فری لانس کام، خود روزگاری، مختصر مدتی منصوبوں اور مختلف پروجیکٹس سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کام روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں ہمیشہ پوری طرح نظر نہیں آتے۔
دوسری طرف، مختلف یونیورسٹیوں کے نتائج یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ایک ہی شعبے میں پڑھائی کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے نتائج یونیورسٹی کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیمبرج یونیورسٹی کے ویٹرنری سائنسز کے گریجویٹس میں اس ڈیٹا سیٹ کے مطابق بے روزگاری ریکارڈ نہیں ہوئی، جبکہ یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے کمپیوٹنگ کورسز میں صرف 2.1 فیصد گریجویٹس مستقل روزگار یا مزید تعلیم کے دائرے سے باہر تھے۔
اسی طرح برسٹل یونیورسٹی کے بزنس اینڈ مینجمنٹ کورسز میں یہ شرح 3 فیصد رہی۔ اس کے برعکس لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے کمپیوٹنگ کورسز میں 19.7 فیصد گریجویٹس اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے، جبکہ مڈل سیکس یونیورسٹی کے قانون اور یونیورسٹی آف گریٹر مانچسٹر کے نفسیات کے کورسز میں یہ شرح 17.3 فیصد تھی۔
تجزیے میں استعمال ہونے والے اعداد و شمار برطانیہ کے محکمہ تعلیم کے ’لانگی ٹیوڈینل ایجوکیشن آؤٹ کمز‘ یعنی ’لیو‘ ڈیٹا سے لیے گئے ہیں۔ اس نظام میں ٹیکس اور سرکاری فوائد کے ریکارڈ کی مدد سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے افراد آگے چل کر روزگار اور تعلیم کے میدان میں کہاں کھڑے ہیں۔
تجزیے میں 18-2017 میں گریجویشن کرنے والے طلبہ کی 24-2023 کی صورتحال دیکھی گئی، جو اس وقت دستیاب تازہ ترین ڈیٹا تھا۔ ان افراد کو شمار کیا گیا جو برطانیہ میں رہ رہے تھے لیکن مستقل ملازمت، مزید تعلیم یا خود روزگاری میں نہیں تھے۔ ایسے افراد بھی اس زمرے میں آ سکتے تھے جنہیں کبھی کبھار کام تو ملتا تھا لیکن مسلسل روزگار حاصل نہیں تھا۔
برطانوی حکومت نے بھی یونیورسٹی کی تعلیم کے معیار اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج پر توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی ایک قابلِ قدر سرمایہ کاری ہے، لیکن بہت سے کورسز طلبہ سے کیے گئے وعدوں کے مطابق نتائج نہیں دے رہے۔ حکومت کم معیار کے کورسز کے خلاف کارروائی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے راستوں کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
حکومت 14 سال کی عمر سے مزید پیشہ ورانہ تعلیمی راستے متعارف کرانے اور 16 سال کی عمر سے نئے ’وی لیولز‘ شروع کرنے کے منصوبے بھی پیش کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ طلبہ کے مالی تعاون تک رسائی کے لیے جی سی ایس ای انگریزی میں کم از کم پاس گریڈ کی شرط پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر سیاسی اختلاف بھی موجود ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی تعلیم سے متعلق ترجمان لورا ٹروٹ نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہت سے نوجوان یونیورسٹی سے بھاری قرض لے کر نکل رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے ملازمت کے مناسب مواقع نہیں۔
دوسری جانب یونیورسٹیوں کی نمائندہ تنظیم ’یونیورسٹیز یو کے‘ کا مؤقف ہے کہ مجموعی طور پر یونیورسٹی کی ڈگری اب بھی زیادہ تر لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ تنظیم کے مطابق گریجویٹس کو ڈگری کے باعث حاصل ہونے والا اضافی آمدنی کا فائدہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ مجموعی معاشی حالات نے اجرتوں میں اضافے کو متاثر کیا ہے۔
خود متعلقہ یونیورسٹیوں نے بھی اس تجزیے کے نتائج کو موجودہ صورتحال کی مکمل عکاسی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کا کہنا ہے کہ اس نے 2018 کے بعد اپنے نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں اور حالیہ نتائج میں گریجویٹس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے بھی تدریس، طلبہ کی معاونت اور روزگار سے متعلق سہولتوں میں نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔
لندن ساؤتھ بینک یونیورسٹی کے مطابق تجزیے میں استعمال ہونے والا ڈیٹا آج پڑھائے جانے والے تمام کورسز کی نمائندگی نہیں کرتا، کیونکہ اس وقت شامل کیے گئے بعض مضامین اب یونیورسٹی میں موجود ہی نہیں۔
یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن نے بھی کری ایٹو آرٹس کے گریجویٹس کے حوالے سے کہا کہ اس شعبے میں فری لانس، خود روزگاری اور مختصر مدتی کام عام ہیں، جنہیں روایتی روزگار کے اعداد و شمار میں مکمل طور پر ریکارڈ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یوں یہ رپورٹ نوجوانوں کے سامنے ایک اہم سوال ضرور رکھتی ہے، لیکن اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ یونیورسٹی جانا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا کورس، کس یونیورسٹی میں، کس معیار کے ساتھ اور مستقبل کے کن مواقع کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے۔
یونیورسٹی کا انتخاب کرتے وقت صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ داخلے کے لیے کتنے گریڈ درکار ہیں یا ڈگری کا نام کیا ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کورس کے بعد طلبہ کو نوکری کتنی آسانی سے ملتی ہے، ان کی آمدنی کتنی ہوتی ہے اور آگے روزگار کے مواقع کیسے ہیں، کیونکہ ایک ہی مضمون مختلف یونیورسٹیوں میں بالکل مختلف نتائج دے سکتا ہے۔
ڈگری نہ تو کامیابی کی ضمانت ہے اور نہ ناکامی کی، لیکن درست معلومات کے بغیر کیا گیا تعلیمی فیصلہ مستقبل پر ضرور بھاری پڑ سکتا ہے۔