
کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے باکسر قدرت اللہ خان مبینہ طور پر اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں لاپتہ ہوگئے ہیں جب کہ متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
پاکستان باکسنگ فیڈریشن (پی بی ایف) کے ایک عہدیدار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے باکسر قدرت اللہ خان کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے بعد گلاسگو میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔
قومی باکسنگ ٹیم وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئی تاہم قدرت اللہ خان قومی دستے کے ہمراہ واپس نہیں آئے۔ ٹیم حکام کا کہنا ہے کہ جب قومی اسکواڈ روانگی کی تیاری کر رہا تھا تو قدرت اللہ خان اپنے ہوٹل کے کمرے میں موجود نہیں تھے جب کہ ان کا سامان اور دیگر ذاتی اشیا کمرے میں ہی موجود تھیں، جس سے ٹیم انتظامیہ کو غیرمتوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
قدرت اللہ خان کا پاسپورٹ اب بھی ٹیم منیجر کے پاس موجود ہے جب کہ ان کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے معاملے پر متعلقہ حکام نے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف یا بیان جاری نہیں کیا۔
پی بی ایف کے ذرائع کے مطابق قدرت اللہ خان ایک باوقار ادارے کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں مکمل میرٹ پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ فیڈریشن ذرائع نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اس معاملے کو ان کا متعلقہ ادارہ دیکھے گا۔
قدرت اللہ خان نے کامن ویلتھ گیمز کے 60 کلوگرام کیٹیگری کے پری کوارٹر فائنل میں حصہ لیا تھا، جہاں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑی لاپتہ ہوئے ہوں۔ اس سے قبل 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز کے بعد پاکستانی باکسر سلیمان بلوچ اور نذیر اللہ خان بھی لاپتہ ہوگئے تھے۔
اسی طرح 2022 میں فینا ورلڈ چیمپئن شپ سے قبل پاکستان کے معروف تیراک فیضان اکبر بھی ہنگری میں لاپتہ ہوگئے تھے۔
مارچ 2024 میں لیاری سے تعلق رکھنے والے ایشین کانسی کے تمغہ یافتہ باکسر زہیب رشید بھی پیرس اولمپکس کے کوالیفائنگ ایونٹ سے قبل اٹلی میں اپنے ہوٹل سے چلے گئے تھے۔ بعد ازاں زہیب رشید نے بتایا تھا کہ مالی مشکلات کے باعث انہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔
قدرت اللہ خان کے لاپتہ ہونے کے تازہ واقعے کے بعد پاکستانی کھیلوں کی انتظامیہ اور قومی ٹیموں کے غیر ملکی دوروں کے انتظامات اور نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
پاکستان آئندہ ماہ ایشین گیمز میں شرکت کے لیے جاپان اپنا دستہ بھیجنے والا ہے، جس کے باعث اس واقعے کے بعد کھیلوں کی انتظامیہ، ٹیم مینجمنٹ اور متعلقہ حکام کی جانب سے سیکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات پر مزید توجہ دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔