صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کی دو سب سے بڑی آئل کمپنیوں ایگزون موبل اور شیورون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث حد سے زیادہ منافع کما رہی ہیں۔ امریکی صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کو اس منافع کا کچھ حصہ عوام کو واپس لوٹانا چاہیے۔
امریکی صدر کی جانب سے توانائی کے شعبے کے خلاف یہ سخت موقف ان کے اپنے روایتی حامی صنعت کاروں کے ساتھ تعلقات میں ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں کمپنیوں کی جانب سے دوسری سہ ماہی میں جنگ کی وجہ سے ریکارڈ منافع کمانے کی اطلاعات کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے یہ بالکل پسند نہیں، شیورون اور ایگزون موبل بہت زیادہ پیسہ کما رہی ہیں جو کہ حد سے زیادہ ہے“۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ کے ایک ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”وہ ایک بات بھول گئے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ذہانت، بصیرت اور طاقت کے بغیر یہ تیل کی صنعت اور ہمارا ملک تباہ ہو چکے ہوتے“۔
انہوں نے وینزویلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سے شیورون کو نکال دیا گیا تھا لیکن اب وہ واپس آ کر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور بھاری منافع کمانے کی توقع رکھ رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے تیل کمپنیوں کو واضح ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ”وہ عوام کے لیے پیٹرول کی ریٹیل قیمتوں میں فوری طور پر کمی کریں“۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں زمین پر آ جائیں گی۔

دوسری جانب امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی ترجمان نے کمپنیوں کا دفاع کرتے ہوئے بیان دیا کہ ”آج ایندھن کی بلند قیمتیں عالمی رسد، طلب اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہیں، اس میں کسی ایک کمپنی کا کوئی قصور نہیں ہے“۔
تاہم اس تنازع اور صدارتی تنقید کے باوجود شیورون کے چیف ایگزیکٹو مائیک ورتھ نے اپنے ملازمین کو ایک ای میل کے زریعے بتایا کہ وہ اس سال کی غیر معمولی آپریشنل کامیابیوں اور ریکارڈ منافع پر تمام ملازمین کو نصف ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر خصوصی بونس دے رہے ہیں۔
مائیک ورتھ نے ای میل میں لکھا کہ ”اس جیسے غیر معمولی سال میں اس قسم کے نتائج عام نہیں ہیں، یہ غیر معمولی حالات میں کی جانے والی غیر معمولی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں“۔

امریکا میں رواں سال نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے پیش نظر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ بن چکی ہیں، کیونکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے وہاں پیٹرول کی قیمتوں میں تیس فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے لیکن پیٹرول پمپس پر عام صارفین کو اس کا فوری فائدہ نہیں پہنچ پا رہا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل دباؤ کے باوجود ایگزون موبل اور شیورون کی جانب سے اس صدارتی بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔