مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ، قاہرہ سمیت کئی علاقوں میں خوف وہراس

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گرد و نواح میں آج علی الصبح 5.6 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے اثرات فلسطین، اردن، لبنان اور قبرص تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد اپنے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

مصری قومی ادارہ برائے فلکیاتی و جیو فزیکل تحقیق کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر ایک منٹ پر آیا، جبکہ اس کا مرکز سوئز شہر سے تقریباً 38 کلومیٹر دور واقع تھا۔ ادارے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔

یورپی بحیرہ روم زلزلہ نگرانی مرکز (ای ایم ایس سی) کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں کے دوران آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

دوسری جانب جرمن سینٹر فار جیو سائنسز نے زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی اور بتایا کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق مختلف سائنسی اداروں کی جانب سے شدت میں معمولی فرق سامنے آنا معمول کی بات ہے کیونکہ ہر ادارہ اپنے الگ مشاہداتی نظام اور تجزیاتی طریقہ کار کے مطابق اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔

مرکز طقس القدس نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 5.5 شدت کا زلزلہ مصر اور جنوبی فلسطین میں محسوس کیا گیا، جس کا مرکز سوئز کا علاقہ تھا۔ ادارے نے مزید آفٹر شاکس کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک واضح طور پر محسوس کیے گئے، جس کے باعث کئی رہائشی عمارتیں ہل گئیں۔ بعض علاقوں میں لوگ خوفزدہ ہو کر کھلے مقامات پر جمع ہو گئے، جبکہ حکام نے عوام سے پرسکون رہنے اور غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

مصری ہلال احمر نے ان تمام شہروں میں ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ امدادی ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی، کمزور یا دراڑوں والی عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

ماہرین ارضیات کے مطابق مصر کا محل وقوع ایسے فعال زلزلہ زونز کے قریب ہے جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ان میں خلیج عقبہ، خلیج سوئز، شمالی بحیرہ احمر، دہشور، مشرقی بحیرہ روم، کریٹ کے جنوب اور قبرص کے جنوبی علاقے شامل ہیں۔ انہی زمینی حرکات کے اثرات بعض اوقات مصر کے مختلف شہروں تک بھی محسوس ہوتے ہیں۔

مصری قومی ادارہ برائے فلکیاتی و جیو فزیکل تحقیق کے شعبۂ زلزلہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر شریف الہادی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ان علاقوں میں زلزلہ خیز سرگرمی ایک قدرتی ارضیاتی عمل ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر جھٹکے معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اکثر کسی بڑے نقصان کا باعث نہیں بنتے، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں 20 جون کو بھی زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ ملک کی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ 12 اکتوبر 1992 کو آیا تھا۔ اس زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 540 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے تھے۔ اس سانحے کے بعد مصر میں زلزلہ نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ زلزلے کے بعد صورتِ حال مکمل طور پر زیر نگرانی ہے اور اگر کوئی نئی پیش رفت سامنے آئی تو عوام کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ اب تک کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، البتہ قاہرہ میں ایک پرانی عمارت کے کچھ حصے گرنے کی اطلاع ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles