مراکش سے ایک ہی روز میں ہزاروں تارکینِ وطن سرحد عبور کر کے اسپین میں داخل

اسپین کے زیرِ انتظام شمالی افریقی شہر سیوٹا میں ہزاروں تارکین وطن کے اچانک داخل ہونے کے بعد اسپین اور مراکش نے اپنے اپنے بارڈرز کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ غیر قانونی سرحد پار کرنے کی کوششوں کو بڑی حد تک روک دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سمندر اور خشک راستے ایک ہی دن میں ہزاروں افراد نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی، جبکہ سمندر سے کم از کم 19 افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

اسپین کے محکمہ قومی سلامتی نے ابتدا میں اپنی ویب سائٹ پر وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بتایا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران 49 ہزار سے زائد افراد نے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی۔ تاہم بعد میں یہ بیان بغیر کسی وضاحت کے ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سیوٹا میں تارکین وطن کی اس غیر معمولی آمد نے پورے یورپ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ فرانس نے اسپین کے ساتھ اپنی سرحد پر نگرانی بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اٹلی نے اسپین کو یورپی یونین کے شینگن معاہدے سے عارضی طور پر معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سیوٹا کے داخلی راستوں پر مراکش کے حکام نے واٹر کینن گاڑیاں تعینات کی ہوئی ہیں جبکہ سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کو آگے آنے سے روکا گیا۔ علاقے میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک بس اور سات نذر آتش گاڑیاں بھی دکھائی دیں۔

ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ جو افراد غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں، انہیں جلد از جلد واپس بھیجنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم اس عمل میں عدالت کے فیصلوں اور قانونی تقاضوں کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ حال ہی میں ایک عدالتی فیصلے میں فوری بے دخلی کے بعض خصوصی اختیارات پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز جمعے کو وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا کے ہمراہ سیوٹا کے دورے پر پہنچنے والے تھے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

سیوٹا اور میلیلا شمالی مراکش میں واقع اسپین کے دو خودمختار شہر ہیں اور یہی یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں۔ دونوں شہروں کی آبادی تقریباً 85 ہزار ہے اور یہاں ماضی میں بھی تارکین وطن کی آمد ہوتی رہی ہے، تاہم اس مرتبہ آنے والوں کی تعداد غیر معمولی رہی۔

اسپین کے وزیر برائے علاقائی پالیسی اینجل وکٹر ٹوریس نے کہا کہ اس اچانک اضافے کی ایک وجہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی ہو سکتا ہے، جس کے تحت سمندر میں پکڑے جانے والے تارکین وطن کو فوری طور پر واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صورتحال پر فوری ردعمل دیا ہے اور عدالت کے فیصلوں اور تارکین وطن کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے انہیں واپس بھیجنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

دوسری جانب مراکش کے سرحدی شہر فنیدق میں بھی ہزاروں تارکین وطن جمع ہو گئے۔ اگرچہ سخت سیکیورٹی کے باعث زیادہ تر افراد سرحد پار کرنے میں ناکام ہوئے، لیکن کئی گروہ ساحل کے ساتھ ساتھ ایسے راستے تلاش کرتے رہے جہاں سے باڑ کو عبور کیا جا سکے، جبکہ کچھ افراد تیراکی کے ذریعے سیوٹا پہنچنے کی تیاری کرتے بھی دیکھے گئے۔

سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 32 سالہ براہیم نے کہا کہ میں دیر سے پہنچا۔ میں طنجہ سے آیا تھا اور گیٹ کے ذریعے داخل ہونا چاہتا تھا، لیکن وہاں پہنچ کر دیکھا کہ راستہ مکمل طور پر بند ہے۔ ان افراد میں خواتین، بچے، مراکش کے شہری اور صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھی شامل تھے۔

اسپین کی پولیس تنظیم اے یو جی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جمعرات کو سرحد پر پولیس اہلکاروں کی تعداد بہت کم تھی، جس کے باعث اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو روکنا ممکن نہیں ہو سکا۔

ادھر فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز کا کہنا ہے کہ میں نے ہدایت جاری کر دی ہے کہ اسپین کے ساتھ سرحد پر فوری طور پر نگرانی سخت کی جائے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عملی طور پر اس اقدام کے تحت کون سے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کا بھی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ اٹلی اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کی معطلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles