
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول ایک روپے 63 پیسے جب کہ ڈیزل ایک روپے 55 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا ہے۔
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکا و ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے، اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن نے 29 جولائی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 63 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی ایک روپے 55 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل 29 جولائی کے لیے کیا گیا ہے جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے 24 گھنٹے کے لیے ہو گا۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کب کب رد و بدل ہوا؟
یاد رہے کہ 17 جولائی کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی۔
بعد ازاں 17 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اگلے 3 روز کے لیے اضافہ کیا تھا، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 05 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
20 جولائی کو وفاقی حکومت نے عوام کو معمولی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ڈیزل کی قیمت 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی۔
پھر 21 جولائی کو حکومت نے پیٹرول 4 روپے 93 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 320 روپے 73 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 367 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
اس کے اگلے روز 22 جولائی کو بھی پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔
23 جولائی کو بھی حکومت کی جانب سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے بڑھائے گئے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے مقرر ہوگئی تھی۔
اس کے بعد 24 جولائی کو بھی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا، اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی تھی تاہم 25 جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھی گئی تھیں۔
گزشتہ روز 27 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول ایک روپے سستا کیا تھا، اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 334 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا تھا، اس اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 386 روپے 83 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدہ صورت حال عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ اور امپورٹ کاسٹ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اتار چڑھاؤ اور امپورٹ کاسٹ کو فوری طور پر مقامی قیمتوں میں شامل کیا گیا ہے۔