ایران جنگ ایجنڈا: نیتن یاہو ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران نے حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد حملوں میں وقفہ کیا ہے اور سفارتی رابطے دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اوول آفس میں بند کمرے کی ملاقات کریں گے۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق ملاقات میں ایران کے معاملے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی، جب کہ لبنان کی صورتِ حال، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

نیتن یاہو کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم کو اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر بڑھتی تنقید کا سامنا ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بھی بعض معاملات پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران وائٹ ہاؤس میں ساتویں ملاقات ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی میزبانی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب اسرائیل کے حوالے سے امریکی عوام اور ری پبلکن جماعت کے بعض حلقوں میں بھی تحفظات بڑھ رہے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک اور سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے معاشی اثرات، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھایا ہے، تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات برقرار ہیں۔

ملاقات سے قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ سے ایران سمیت تمام اہم معاملات پر بات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا، اس کی طاقت کو مضبوط کرنا اور خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اس ملاقات کو اپنی داخلی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے تناظر میں ان کی سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر کے ساتھ تصویر اور قریبی تعلقات کا اظہار ان کے لیے سیاسی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ملاقات کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں، لبنان میں اسرائیلی موجودگی، غزہ کی صورتِ حال اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد جیسے معاملات پر کس حد تک دباؤ ڈالتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی صورتِ حال کے باعث نیتن یاہو اور ٹرمپ کی یہ ملاقات خطے کے مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles