افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر


پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ 5 سال کے مقابلے میں اس سال سب سے زیادہ دہشتگرد مارے گئے، افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
جنرل احمد شریف نے بتایا کہ پاکستان نے 59,000 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولا بارود بھی پکڑا گیا ہے۔
دہشت گردوں کے سرغنوں کی گرفتاری
انہوں نے مزید بتایا کہ فتنہ الخوارج کے متعدد سرغنوں کو جنہم واصل کیا گیا اور 27 افغان دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ خودکش بمباروں سے بارودی جیکٹس بھی برآمد کی گئی ہیں، جنہوں نے ذہن سازی کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات کئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کےدوران افغان عبوری حکومت کے ساتھ مختلف فورمز پر بات چیت ہوئی ہے، افغان عبوری حکومت کو یاباور کرایاگیا کہ فتنہ الخوارج کی سہولت کاری نہ کی جائے۔
افغانستان میں قیام امن
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج کی پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مختلف نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اپنی عوام اور بارڈرز کی حفاظت کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ چمن بارڈر پر جدید نظام متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تربیت کا عمل جاری رہتا ہے، تاکہ سیکیورٹی فورسز ہر طرح کی چیلنجز کا موثر جواب دے سکیں۔
جنرل احمد شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا کا عمل جاری ہے، جس کے تحت موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہدا کی قربانی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 383 افسروں اور جوانوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی دی ہے، اور پاک فوج و قوم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر اسمگلنگ اور بجلی چوری کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کی جانب سے خطرات
انہوں نے بھارت کی طرف سے مشرقی سرحد پر خطرات کا بخوبی ادراک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بھارت نے سیز فائر کی 25 خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ ملکی سالمیت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارتی فورسز مختلف ریاستوں میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال
جنرل احمد شریف نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نہتے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور معصوم عوام کے ساتھ ہر فورم پر کھڑے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں تعلیم کے شعبے کے لیے 6500 پروگراموں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بہت سے منصوبوں کو مکمل کیا گیا ہے، جو علاقے میں ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔
جنرل احمد شریف نے کہا کہ بلوچستان میں بھی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تعلیم کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ کچھی کنال کا منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، جو مقامی آبادی کی زراعت اور پانی کی فراہمی میں بہتری لائے گا۔
واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کی پریس کانفریس کا انعقاد ایسے وقت پر ہورہا ہے جب افغانستان میں طالبان جنگجوؤں پر حالیہ حملوں کے بعد پاکستان میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم تنظیمیں، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مختلف شہروں میں ممکنہ دہشت گرد ی کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا تھا کہ پکتیکا میں پاکستانی فوج کے فضائی حملے میں سویلینز کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles