
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے نئے اسپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، کراچی، لاہور، خیبرپختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت مختلف علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ متعلقہ اداروں نے اربن فلڈنگ، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں جنوبی اور وسطی پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے باعث آج شام سے پیر تک سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور گلیات میں 26 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ لاہور، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 27 جولائی تک بارش کا امکان ہے۔ کراچی میں 25 اور 26 جولائی کو بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جب کہ گلگت بلتستان میں 26 جولائی اور آزاد کشمیر میں 28 جولائی تک وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، حیدرآباد، سکھر اور سندھ کے بعض دیگر اضلاع میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جب کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور تعمیرات، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور سائن بورڈز کو نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب سندھ میں متوقع شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے تمام ضلعی، ٹاؤن اور یونین کونسل انتظامیہ کو اسٹینڈ بائی رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
شرجیل میمن نے ریسکیو اداروں اور متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی، جامشورو اور سکھر سمیت مختلف مقامات پر ایمرجنسی رسپانس سینٹرز فعال کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ شدید بارش کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
ادھر پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے بھی 24 سے 27 جولائی تک گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے جب کہ حساس علاقوں کے مقامی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں فلیش فلڈ آ سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے سیاحوں اور مقامی افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور دریاؤں و ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
مون سون کے دوسرے سسٹم کی تباہ کاریاں جاری
دوسری جانب ملک بھر میں مون سون کے دوسرے سسٹم نے بالائی علاقوں میں تباہی مچادی، سسٹم نے سندھ اور بلوچستان کو بھی لپیٹ میں لے لیا، تھرپارکر کے قریب نگرپارکر میں 80 ملی میٹر بارش ہوئی جب کہ عمرکوٹ، ڈھلی، چھاچھرو اور مٹھی کے علاقے پانی پانی ہوگئے۔
خیبر پختونخوا میں پٹن میں 40، ڈی آئی خان ایئرپورٹ پر 31، مالم جبہ اور باچا خان ایئرپورٹ پر 18 ملی میٹر پانی برسا، پشاور سٹی میں 15، دیربالا میں 14 اور سیدو شریف میں 13 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سیالکوٹ سٹی میں 34، گوجرانوالہ میں 16 ملی میٹر بارش ہوئی جب کہ بہاولنگر، مرید کے، فیروز والا، نارووال اور منگلا میں بھی ہلکی اور تیز بارش جاری رہی۔
لاہور کے اتحاد ٹاون کی ایک اور سڑک پر گڑھا پڑ گیا، گڑھے کے باعث لوڈڈ ڈمپرڈیوائیڈر سے ٹکرا گیا، پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور میں 4 روز کے دوران 383 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 24 گھنٹے میں مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 54 زخمی ہوگئے جب کہ ایک ماہ میں اموات کی تعداد 81 تک جاپہنچی۔
گجرات میں دریائے چناب میں سیلابی صورت حال برقرارہے، کوٹ نکا اور غلام کوٹ کے مقام پر دریائی کٹاؤ بڑھ گیا، ریلا کوٹ غلام کی زرعی اراضی بہا کرآبادی تک پہنچ گیا۔ شکر گڑھ میں درجنوں دیہات کا زمینی راستہ نور کوٹ اور شہر سے کٹ گیا۔
چناب نگر کے مقام پر دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، سخی سرور اور کوہِ سلیمان میں سیلاب سے فصلیں تباہ ہوگئیں، ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں طوفانی بارشوں کے باعث برساتی ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔
محکمہ موسمیات نے چھبیس جولائی تک مزید بارش کی پیش گوئی کردی، کراچی میں پچیس اور چھبیس جولائی کو بارش کا امکان ہے۔
دریں اثنا پی ڈی ایم اے پنجاب نے بتایا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث صوبے کے مختلف دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہی۔ تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 42 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک اور چشمہ پر 2 لاکھ 93 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
بیان کے مطابق دریائے چناب میں سیلابی صورت حال اونچے درجے سے کم ہو کر درمیانے درجے پر آ گئی ہے۔ ہیڈ مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جہاں ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 8 ہزار کیوسک، خانکی پر ایک لاکھ 65 ہزار کیوسک اور قادر آباد پر ایک لاکھ 90 ہزار کیوسک رہا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج اور دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ راوی میں جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقامات پر صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کی سیلابی صورت حال ہے جب کہ آرا کینٹ برج نالہ ایک میں نچلے درجے اور وزیرآباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، تاہم دریائے چناب کے بالائی کیچمنٹ علاقوں میں بارشیں رکنے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں سے پانی کا بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔ متعلقہ ادارے دریاؤں، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔