
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، سامان یا دیگر املاک کو کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں اس کا معاوضہ امریکا کے قبضے میں موجود ایرانی رقوم سے ادا کیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرکے مستقبل میں سامنے آنے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کرنا ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ ایسے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اس پر خوش ہوتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسرے ممالک کے اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں گی تو پھر کسی کے بھی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد پیدا ہونے والا انتشار نہ خوشگوار ہوگا اور نہ ہی پُرامن۔
عباس عراقچی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی ادائیگی امریکا کے قبضے اور کنٹرول میں موجود ایرانی رقوم سے کی جائے گی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کن مخصوص ایرانی اثاثوں کی بات کر رہے ہیں۔ البتہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے اب بھی امریکا کے کنٹرول میں منجمد ہیں۔
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک اور بیان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بے سوچے سمجھے جارحانہ اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی حقیقی صورتحال کے بجائے صرف 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے۔
ایرانی وزیر خارجہکا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ افراد نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جن کے نتائج خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات، دھمکیوں اور سفارتی محاذ پر تناؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ممکنہ معاہدے یا امریکی اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکی پالیسیوں اور بیانات کو خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔