
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے ابھی تک زیادہ تکلیف نہیں اٹھائی، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ”میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔“ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے۔“
رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔
ادھر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے۔