ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو اپنے شہری ایٹمی پروگرام کے لیے یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، 30 سال پر محیط اس ممکنہ معاہدے میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی اور ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی کی تنصیب بھی قائم کی جا سکتی ہے۔

اس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے قانون سازوں کی جانب سے سخت مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی اراکینِ اسمبلی کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو خود سے یورینیم افزودگی کی اجازت دینے سے خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایک نئی مقابلے بازی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے۔

اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گے۔

ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ”ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا“۔

دوسری جانب، سعودی عرب کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles