حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں کو وارننگ جاری کر دی

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سمندری راستے کا استعمال نہ کریں، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرۂ احمر سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اہم راستہ بن چکا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

حوثی قیادت پیر کے روز سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کر چکی تھی، جس کی سعودی عرب نے سخت مذمت کی ہے۔

یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیش رفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

ادھر برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حوثیوں نے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی بندرگاہوں پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں، بصورت دیگر ایسے جہاز کسی بھی مقام پر حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles