
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر ایران کو سخت نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی فوجی کی ہلاکت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ دوسری جانب انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو امریکا کے دورے کے دوران کسی بھی صورت گرفتار نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیر کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ”جب بھی ایران کسی امریکی فوجی کو قتل کرے گا تو اسے اس کی اسے اس کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانا ہوگی۔“
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس حوالے سے ضروری ہدایات امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیل کین اور فوج کی تمام اعلیٰ قیادت کو جاری کر دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ہفتے شمالی عراق اور اردن پر ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجی مارے گئے ہیں، 2 فوجی اردن میں واقع ایک فوجی اڈے پر جب کہ ایک شمالی عراق میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اردن کے حملے کے بعد ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضا کا جائزہ لے رہی ہے، یہ اس بات کا اشارہ ہےکہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیتن یاہو کو امریکا آمد پر گرفتار نہیں کیا جائے گا: ٹرمپ
دوسری جانب ایک اور بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کو امریکا کے دورے کے دوران ”کسی بھی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا۔“
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نیتن یاہو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف لڑ رہے ہیں، جس نے حالیہ عرصے میں 52 ہزار بے گناہ مظاہرین کو قتل کیا اور گزشتہ 47 برسوں سے امریکی فوجیوں اور دیگر افراد کو قتل کرتا آرہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتار تو ان لوگوں کو ہونا چاہیے جنہوں نے ایران کو موت اور تباہی کے اس بے مثال بھنور میں دھکیلا، اس مسئلے سے کئی سال پہلے ہی نمٹ لینا چاہیے تھا لیکن سابق امریکی صدور ایسا نہیں کرسکے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے حالیہ مؤقف کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے نیویارک ٹائمز کے پوڈکاسٹ ”دی انٹرویو“ میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کا قانونی شعبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونے والے اجلاس کے دوران نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ ”میرا ماننا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کا مقام دی ہیگ میں ہے۔“ نیتن یاہو ایک ”جنگی جرائم کے ملزم“ ہیں اور ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان کے بقول گزشتہ کئی برسوں کے دوران نیتن یاہو کے اقدامات کی بنیاد پر بہت سے لوگ یہی رائے رکھتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ قانون انہیں اس معاملے میں کیا اختیار دیتا ہے تو ظہران ممدانی نے کہا تھا کہ یہ معاملہ ان کے قانونی شعبے کے ساتھ زیر غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ قانون کی حدود سے باہر کوئی اقدام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور اس حوالے سے تمام فیصلے قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس پر دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان نے اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان قیام امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، جس کے بعد ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے گئے، تاہم باضابطہ معاہدے سے قبل ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
پاکستان اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہییں، تاکہ آبنائے ہرمز کھلی رہے اور دنیا کو اس تنازع کی قیمت نہ چکانی پڑے۔