
انگلینڈ نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے تیسری پوزیشن کے سنسنی خیز میچ میں فرانس کو 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا ہے۔ لیکن اس یادگار فتح نے صرف بوکایو ساکا کی ہیٹ ٹرک ہی نہیں بلکہ جوڈ بیلنگھم کے ایک تاریخی ریکارڈ کو بھی جنم دیا۔ انگلش مڈفیلڈر ایک ہی ورلڈ کپ میں 7 گول کرنے والے انگلینڈ کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
امریکا کے شہر میامی میں کھیلے گئے اس دلچسپ اور 10 گولوں سے بھرپور مقابلے میں انگلینڈ نے فرانس کی شاندار واپسی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ 1966 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انگلینڈ کی بہترین کارکردگی بھی قرار دی جا رہی ہے۔
جوڈ بیلنگھم نے میچ کے اضافی وقت کے آٹھویں منٹ میں فرانس کے گول کیپر مائیک میگنان کو شکست دے کر اپنی ٹیم کے لیے چھٹا گول اسکور کیا۔ یہ ان کا رواں ورلڈ کپ میں ساتواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے انگلش فٹبال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ اس سے قبل کوئی بھی انگلش کھلاڑی ورلڈ کپ کے ایک ہی ایڈیشن میں سات گول اسکور نہیں کر سکا تھا۔
اگرچہ اس میچ میں بوکایو ساکا کی تاریخی ہیٹ ٹرک سب کی توجہ کا مرکز بنی، تاہم جوڈ بیلنگھم نے خاموشی سے ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کر لیا جسے آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کا آخری لمحات میں کیا گیا گول فرانس کی امیدوں پر آخری ضرب ثابت ہوا۔
میچ کا آغاز انگلینڈ نے انتہائی جارحانہ انداز میں کیا۔ صرف تیسرے منٹ میں ڈیکلن رائس نے گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی، جس کے بعد ایزری کونسا نے اس برتری کو مزید مستحکم بنایا۔ بوکایو ساکا نے پہلے ہاف میں دو خوبصورت گول اسکور کرکے فرانس کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور انگلینڈ پہلے ہاف کے اختتام تک 0-4 کی مضبوط برتری حاصل کر چکا تھا۔
دوسرے ہاف میں فرانس نے شاندار کم بیک کیا۔ کپتان کیلیان ایمباپے نے دو گول اسکور کیے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کرکے میچ کو ایک مرتبہ پھر دلچسپ بنا دیا۔ 66ویں منٹ تک فرانس نے خسارہ کم کرکے اسکور 4-3 کر دیا تھا اور انگلینڈ کی ٹیم دباؤ میں دکھائی دے رہی تھی۔ ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ میچ کسی بھی رخ جا سکتا ہے۔
تاہم میچ کے اختتامی لمحات میں بوکایو ساکا نے پنالٹی پر اپنا تیسرا گول کرکے ہیٹ ٹرک مکمل کی اور انگلینڈ کو 3-5 کی برتری دلا دی۔ اس کے باوجود فرانس نے ہمت نہ ہاری اور عثمان ڈیمبیلے نے ایک اور گول کرکے مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔
جب فرانس برابر گول کی تلاش میں آگے بڑھ رہا تھا تو متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آنے والے جوڈ بیلنگھم نے اضافی وقت میں انگلینڈ کا چھٹا گول اسکور کرکے فرانس کی تمام امیدو پر پانی پھیر دیا اور یوں انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر لی۔
یہ میچ کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں تیسری پوزیشن کے کسی میچ میں پہلی مرتبہ مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے گئے۔ اس سے قبل 1958 کے ورلڈ کپ میں فرانس نے مغربی جرمنی کو 3-6 سے شکست دی تھی، جو اس مرحلے کا سب سے زیادہ گولوں والا میچ تھا۔
اس یادگار جیت کے بعد انگلینڈ کے مداح خوشی سے نہال ہیں اور کوچ تھامس ٹوچل کی حکمت عملی کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے۔
فرانس کے اسٹار فٹبالر کیلیان ایمباپے نے بھی اس مقابلے میں ایک بڑی کامیابی اپنے نام کی۔ ان کے دو گولوں کے بعد رواں ورلڈ کپ میں ان کے مجموعی گولز کی تعداد 10 ہو گئی، جس کے ساتھ وہ گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ 22 گول اسکور کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا اور اس معاملے میں لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔
39 سالہ لیونل میسی کو اب اتوار کے روز اسپین کے خلاف فائنل میں اپنے مجموعی گولز کی تعداد بڑھانے کا ایک اور موقع ملے گا۔
دوسری جانب فرانس کے لیے یہ مقابلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ یہ ان کے ہیڈ کوچ دیدیے دیشان کا بطور کوچ آخری ورلڈ کپ میچ تھا۔ 2018 میں فرانس کو عالمی چیمپئن بنانے والے کوچ اپنی ٹیم کو فتح کے ساتھ رخصت کرنا چاہتے تھے، تاہم انگلینڈ نے ان کی خواہش پوری نہ ہونے دی۔
انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل کی ٹیم نے سیمی فائنل میں ارجنٹینا کے خلاف محتاط کھیل پر ہونے والی تنقید کا جواب جارحانہ انداز میں دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڈ بیلنگھم اور ہیری کین جیسے اہم کھلاڑی ابتدائی لائن اپ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود انگلینڈ نے شاندار کھیل پیش کیا اور بالآخر تیسری پوزیشن اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔
1990 اور 2018 میں تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ میں شکست کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلینڈ نے ورلڈ کپ میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے، جبکہ جوڈ بیلنگھم کا نیا ریکارڈ اس تاریخی فتح کو مزید یادگار بنا گیا۔