
اردن میں ایران کے میزائل حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوگئے جس کا اعتراف خود امریکا نے کرلیا ہے۔ مارچ کے بعد جاری تنازع میں یہ پہلی بار ہے کہ لڑائی کے دوران امریکی فوج کے اہلکار مارے گئے ہیں، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جمعے کی شب ایران نے اردن میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ایک اہلکار تاحال لاپتا ہے۔
سینٹ کام نے بتایا کہ چار زخمی فوجیوں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم علاج کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمی دیگر اہلکار دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
امریکی میڈیا فاکس نیوز کے مطابق ایرانی میزائل حملہ اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
سینٹ کام نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ کس مقام پر ہوا یا دونوں فوجی کن حالات میں ہلاک ہوئے۔
اُدھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایران کے پلوں اور ہوائی اڈوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق، یہ کارروائی امریکی حملوں کا ردعمل ہے۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے الازرق فوجی اڈے پر کم از کم دو امریکی جنگی طیارے تباہ کر دیے ہیں۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی تصدیق نہیں کی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور پہلے سے موجود معاہدہ اب مؤثر نہیں رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور سابقہ معاہدہ عملاً ناکام ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران ایک دوسرے پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔
امریکی افواج ایران کے فوجی ڈھانچے اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ ایران بھی امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک میں امریکا کے اہم اتحادیوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جون میں ایک ابتدائی جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم یہ معاہدہ چند ہی ہفتوں میں ٹوٹ گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ “یہ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں دوبارہ نافذ کیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد دونوں جانب سے حملوں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا۔