مین سپر ہائی وی این 5 پر حیدرآباد کے قریب عوام سے زبردستی ٹول ٹیکس کے نام پر کروڑوں روپئے کی لوٹ کھسوٹ ابتک بند نہ ہوسکی۔

کراچی سے M9 موٹروے پر حیدرآباد جاتے ہوئے موٹروے کے اختتام پر سپر ہائی وے N5 کی شروعات پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ایک ٹول ٹیکس پلازہ آتا ہے جس پر ایک سروے کے مطابق ہر روز چالیس ہزار کے قریب گاڑیاں گذرتی ہیں جس میں مال بردار گاڑیوں کے علاوہ بسیں، ویگنیں اور کاریں شامل ہیں جو کہ حیدرآباد سے ہوتی ہوئی ملک کے مختلف شہروں کی طرف جاتی ہیں اور جامشورو کے قریب اس ٹول پلازہ پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ کراچی سے آنے والی حیدرآباد سے تعلق رکہنے والی گاڑیاں جو کہ این فائیو سپر ہائی وے کا صرف پانچ کلومیٹر استعمال کرتی ہیں ان سے زبردستی پورا ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
حیدرآباد سے کراچی آنے والی یا جامشورو یونیورسٹی جانی والی گاڑیاں بھی این فائیو سپر ہائی وے کا صرف پانچ کلومیٹر استعمال کرتی ہیں ان سے بھی پورے ایک سو کلو میٹر کا ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو کہ مکمل طور پر غیر قانونی ، غیر آئینی ہے اور ایک سنگین جرم ہے اور یہ رقم روزانہ کروڑوں بن جاتی ہے جبکہ ایم نائین موٹروے پر حیدرآباد، نوری آباد ، بحریہ ٹاؤن، تھانہ بولا خان اور تمام علاقوں کا ٹول ٹیکس فاصلے کی پیمائش کے مطابق وصول کیا جاتا ہے جو کہ مکمل طور پر صحیح ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ این فائیو سپر ہائی وے کا جامشورو کے قریب ٹول پلازہ عدالت کے اسٹے آرڈر پر موجودہ لوکیشن سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے ۔

دیکھا جائے تو اس ٹول پلازہ کو حیدرآباد شہر کی حدود سے ایک کلو میٹر دور مٹیاری کی طرف شفٹ ہونا چاہئے اس لئے کہ یہ ٹول پلازہ موٹروے کی تعمیر سے پہلے کا بنا ہوا ہے اب قانونی طورپر اس کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی ضرورت ہے ۔
دوسری جانب ٹول کی انتظامیہ کے پاس ہر وقت مسلح افراد تیار کھڑے رہتے ہیں جو ٹیکس نہ ادا کرنے والے شخص پر تشدد کرنا شروع کردیتے ہیں اور زبردستی نہ صرف پیسے چیھنتے ہیں بلکہ مسافروں کی تذلیل بھی کرتے ہیں اور اس کی شکایت کا ازالہ بھی نہیں ہوتا۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک غیر قانونی ٹول ٹیکس پلازہ پر مسلح افراد کو تعینات کرنا کیا قانون کے مطابق ہے اور ان لوگوں کے پاس موجود ھتیار لائسنس کے ہیں بھی یا نہیں؟
رپورٹ۔ ایڈووکیٹ عادل