
امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی شپنگ نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ کارروائی ایسے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہے جو مبینہ طور پر ایران کو تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے اور دیگر مالی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہا تھا۔
امریکا نے منگل کے روز ایران کے ایک شپنگ نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جن کا مقصد ایران کی ان سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے وہ امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا کہ یہ پابندیاں محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک پر عائد کی گئی ہیں، جسے واشنگٹن ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی تازہ کوشش قرار دے رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ خزانہ ایسے مالیاتی ڈھانچے کو ختم کر رہا ہے جو ایرانی حکومت کو امریکی قومی سلامتی اور عالمی بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نئی پابندیاں اپریل میں عائد کی گئی پابندیوں اور گزشتہ سال کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہیں۔
محکمہ خزانہ نے مزید بتایا کہ اب تک محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک سے وابستہ 200 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
ان پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔