اے سی چلانے پر اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کی معطلی: ‘یہ وزیر کہاں تھے جب 11 ارب کا جہاز خریدا تھا’


پنجاب میں وزراء اور سرکاری افسران کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کے اچانک دوروں اور وہاں موجود عملے کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر ڈاکٹروں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
حال ہی میں صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر خواجہ عمران نذیر نے سیالکوٹ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال پسرور کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایڈمن بلاک کے خالی کمروں میں ایئر کنڈیشنر (اے سی) چلنے اور ان کا درجہ حرارت چھبیس ڈگری سے نیچے ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
صوبائی وزیر نے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو موقع پر ہی معطل کرنے کا حکم دیا اور ان کی سرزنش کرتے ہوئے ’شرم کرو‘ جیسے الفاظ استعمال کیے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کی گئی۔
اس واقعے کے بعد ڈاکٹروں کی تنظیم ’ڈاکٹرز ویک اپ موومنٹ‘ اور دیگر طبی ماہرین کی جانب سے وزیرِ صحت کے رویے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ صحت کو تادیبی کارروائی کرنے اور معطل کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن سوشل میڈیا پر تشہیر کے لیے کسی سرکاری افسر کو کیمرے کے سامنے ’شرم کرو‘ کہنا اور ان کی عزت نفس کو مجروح کرنا کسی طور درست نہیں ہے۔

اس حوالے سے ایک سوشل میڈیا صارف زبیر احمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ کسی حاضر سروس ایم ایس کو اے سی کا درجہ حرارت چھبیس سے کم رکھنے پر اس طرح ذلیل کرنا بالکل غلط ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”وزیر صاحب کس قانون کے تحت یہ سب کر رہے ہیں؟ اگر کوئی مسئلہ تھا تو قانون کے مطابق انہیں تحریری نوٹس بھیجا جاتا۔“
انہوں نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ ”یہ صوبائی وزیر اس وقت کہاں تھے جب ان کی وزیر اعلیٰ نے گیارہ ارب روپے کا نیا طیارہ خریدا تھا؟“

نجی ٹی وی سے وابستہ سپروم کورٹ کے ایک رپورٹر ذیشان نور نے اس حوالے سے ایکس پر جاری ایک طنزیہ پوسٹ میں لکھا کہ ”مذکورہ ویڈیو کا کل اخلاقی سبق یہ ہے کہ میٹرک اچھے اسکول سے کریں، ٹیوشن رکھیں، بہترین نمبر لیں، پھر ایف ایس سی میں ٹاپ میرٹ حاصل کریں، ایم ڈی کیٹ کی مہنگی تیاری کریں، ٹیسٹ پاس کریں، پانچ سالہ ایم بی بی ایس پر کروڑوں روپے اور جوانی کے کئی سال صرف کریں، پی ایم ڈی سی کے مراحل بھی مکمل کریں، اور آخر میں فارم 47 کے وزیرِ صحت سے کیمروں کے سامنے اپنی عزتِ نفس مجروح کروائیں“۔

اسی طرح طبی ماہر ڈاکٹر نعیم میو نے بھی اس صورتحال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے ملک میں بیوروکریسی اور سرکاری دوروں کا یہ نوآبادیاتی نظام اب بھی صرف حکومت کرنے اور دکھاوے کے لیے چل رہا ہے، نہ کہ عوام کی خدمت کے لیے۔“
انہوں نے اسسٹنٹ کمشنروں اور وزراء کے سرپرائز دوروں کی ویڈیوز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان افسران سے ادویات، علاج کے طریقوں یا فائلوں کے بارے میں تکنیکی سوال پوچھا جائے تو کیا انہیں معلوم ہوگا کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں؟“
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کوئی اسٹیج نہیں ہے جہاں ہر دوسرے دن کیمرے اور مائیک لے کر پہنچ جائیں، اور نہ ہی مریضوں کی بغیر اجازت ویڈیوز بنانا قانونی طور پر درست ہے کیونکہ مریض علاج کے لیے آتا ہے، سوشل میڈیا پر تماشہ بننے کے لیے نہیں ہے۔“

ڈاکٹر نعیم میو نے وفاق کی سطح پر بھی وزراء کی معلومات کی کمی پر تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ”چند دن پہلے وفاقی وزیرِ صحت نے بیان دیا تھا کہ ایچ آئی وی (ایڈز) صرف نائٹ کلبوں کی وجہ سے پھیلتا ہے، حالانکہ 2019 میں لاڑکانہ میں اس بیماری کے پھیلنے کی بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال تھا۔“
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ”صحت کا نظام چلانے کے لیے کیمرہ شوٹنگ اور بیانات کے بجائے اسے ڈاکٹروں، سرجنوں اور پبلک ہیلتھ کے ماہرین کے حوالے کیا جائے، کیونکہ یہی پاکستانی ماہرین دنیا بھر کے بڑے بڑے اسپتال چلا رہے ہیں اور اگر انہیں موقع دیا گیا تو فیصلے کیمرے کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ غریب مریض کے فائدے کے لیے ہوں گے۔“

صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس اقدام کا دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا حکم ہے کہ ہم اسپتالوں میں جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں خود یہاں ایم پی اے رانا فیاض کے کہنے پر آیا ہوں تاکہ اسپتال کی حالت بہتر بنائی جا سکے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اچھے موڈ کے ساتھ اسپتال آئے تھے لیکن وہاں کی بدانتظامی دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوا، خاص طور پر جب انہوں نے دیکھا کہ ایک مریض کو دوسرے اسپتال بھیجنے کے لیے سرکاری ایمبولینس تک نہیں مل رہی تھی۔
اے سی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے واضح ہدایات ہیں کہ سرکاری دفاتر میں اے سی کا درجہ حرارت چھبیس ڈگری سے نیچے نہیں رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں بجلی کا بحران ہے، حکومت نے سادگی مہم چلائی ہے جس کے تحت وزراء کی تنخواہیں تک بند ہو چکی ہیں، لیکن یہاں خالی کمروں میں سرکاری خرچے پر اے سی چلائے جا رہے ہیں کیونکہ بل تو حکومت نے دینا ہے اور کسی کو اس بات کی فکر ہی نہیں ہے۔
دوسری طرف، انہوں نے دوائیوں کے اسٹور روم میں اے سی نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں فوری اے سی لگانے کا حکم دیا، اور ساتھ ہی صفائی کرنے والے اور سیکیورٹی کے عملے کو تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کو تین دن میں ادائیگی کی ہدایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایڈمن کے کمرے ختم کر کے مریضوں کے لیے جگہ بنائیں گے کیونکہ مریضوں کا علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles