مونال، نسلہ اور بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کے وہ تاریخی فیصلے جو وقت کے ساتھ بدل گئے


وفاقی آئینی عدالت نے رواں ماہ دو انتہائی ہائی پروفائل مقدمات میں سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیا ہے۔ ان میں پہلا فیصلہ کراچی میں شارعِ فیصل پر واقع نسلہ ٹاور جب کہ دوسرا اسلام آباد کی مارگلہ ہلز پر واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ کی مسماری سے متعلق ہے۔ آئینی عدالت نے ان دونوں مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا۔
پاکستان میں سپریم کورٹ کو طویل عرصے تک ملک کی سب سے بااختیار عدالت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے فیصلے نہ صرف قانونی معاملات بلکہ سیاست، معیشت، شہری حقوق اور ریاستی پالیسیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔
تاہم حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد ایک اہم سوال بار بار سامنے آ رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے بھی کالعدم قرار دیے جا سکتے ہیں؟
پاکستان میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد 13 نومبر 2025 کو وفاقی آئینی عدالت کے نام سے ایک نئی عدالت قائم کی گئی اور سپریم کورٹ کے بعض اختیارات 13 رکنی اس عدالت کو منتقل کردیے گئے۔
ماضی میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کے لیے لارجر یا ریویو بینچ تشکیل دیے جاتے تھے، تاہم اب سپریم کورٹ کے پاس صرف عام دیوانی، فوجداری یا تجارتی مقدمات کے حتمی فیصلے کا اختیار ہے۔
عدالتی اصلاحات کے بعد تمام آئینی تشریحات، بنیادی حقوق، بین الصوبائی تنازعات، آئینی حیثیت کے معاملات اور سپریم کورٹ کے سابقہ ازخود نوٹسز (سوموٹو) کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سننے کا حتمی دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے ان ہی اختیارات کی روشنی میں رواں ماہ سپریم کورٹ کے دو اہم فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔
1. مونال ریسٹورنٹ کیس
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کے معروف مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 13 جولائی کو اس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم قانونی پہلوؤں کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور فیصلے میں ایسے نکات بھی شامل تھے جن کا حقائق سے براہِ راست تعلق نہیں تھا۔‘
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2006 میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی حدود میں مونال ریسٹورنٹ کو کاروبار کے لیے زمین لیز پر دی گئی تھی۔ یہ جگہ سیاحت کے لیے اسلام آباد کا مقبول ترین مقام رہا۔

بعد ازاں مونال ریسٹورنٹ کی لیز کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت رہا۔
سپریم کورٹ نے 11 جون 2024 کو ماحولیاتی تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں قائم مونال ریسٹورنٹ سمیت دیگر تجارتی مقامات کو بند کرنے اور ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم بینچ کو آگاہ کیا کہ مارگلہ ہلز پر قائم مونال، لا مونٹانا اور دیگر تعمیرات کو مسمار کر کے زمین دوبارہ سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس زمین کی ملکیت کے تنازعات ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے زیرِ التوا مقدمات کو نظرانداز کیا۔
آئینی عدالت کے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایسا تاثر ملتا ہے جیسے جانوروں کے حقوق تو ہیں مگر انسانوں کے نہیں۔ وہاں سماعت کے دوران تمام وکیل کیوں گونگے ہو گئے تھے؟‘
وفاقی آئینی عدالت نے یہ تنازعات دوبارہ متعلقہ عدالتوں کو واپس بھیج دیے ہیں جب کہ انتظامی اور ریگولیٹری معاملات دوبارہ متعلقہ سرکاری اداروں کے سپرد کر دیے ہیں۔
2. نسلہ ٹاور کیس
نسلہ ٹاور کراچی میں شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع عمارت تھی، جسے سپریم کورٹ کے حکم پر 2022 کے اوائل میں مسمار کر دیا گیا تھا۔
کراچی میں تجاوزات کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران دالت کو آگاہ کیا گیا کہ شارع فیصل پر موجود کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کا کچھ حصہ سروس روڈ اور عوامی زمین پر ناجائز قبضہ کر کے بنایا گیا۔
جون 2021 میں اس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری گرانے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد درجنوں خاندان، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے فلیٹس خریدے تھے، عمارت خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔ بعد ازاں 2022 کے اوائل میں نسلہ ٹاور کو مرحلہ وار مسمار کر دیا گیا تھا۔

اس مقدمے نے حال ہی میں اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بینچ نے 10 جولائی کو سپریم کورٹ کے اس حکم کو واپس لے لیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ’سپریم کورٹ کے سامنے صرف ایک مخصوص عمارت کا کیس تھا، لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر پورے کراچی کے لیے وسیع احکامات جاری کیے۔‘
فیصلے میں کہا گیا کہ عمارتوں سے متعلق قوانین کا نفاذ، شہری زمین کا نظم و نسق اور ریگولیشن عدالتوں کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ذمہ داری ہیں۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کی بنیاد بننے والے اس کیس میں عمارتیں مسمار ہوئیں، خریدار بھی بے گھر ہوئے مگر بدعنوانی کے ذمہ داروں کا احتساب ادھورا رہ گیا۔
مقدمے میں سابق ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے منظور قادر کاکا سمیت تقریباً 18 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم استغاثہ مضبوط تکنیکی شواہد اور اصل سرکاری ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث مقدمہ کمزور پڑ گیا اور بعد ازاں کئی اہم ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر ماتحت عدالتوں سے بری کر دیا گیا۔
مونال ریسٹورنٹ اور نسلہ ٹاور سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تو وفاقی آئینی عدالت نے کالعدم قرار دیا۔ تاہم وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے پہلے بھی سپریم کورٹ متعدد مواقع پر اپنے ہی اہم فیصلوں پر نظرِ ثانی کر چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے لارجر بینچ یا ریویو بینچ تشکیل دیے جاتے تھے۔
سپریم کورٹ کے نظرثانی شدہ کیسز میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی، قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس اور ریکوڈک کیس مشہور مثالیں ہیں۔
3. ذوالفقار علی بھٹو کیس
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 میں عدالت کے حکم پر راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔ ان پر پیپلزپارٹی کے ہی رہنما احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا الزام تھا۔
پانچ جولائی 1977 کو جب جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو دو ماہ بعد ستمبر میں ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے ان پر نواب احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔
سنہ 1974ء میں احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس میں وہ جاں بحق ہو گئے تھے۔ احمد رضا قصوری نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نامزد کیا تھا۔
مارچ 1978 میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے قتل کے مقدمے میں ذوالفقار بھٹو کو موت کی سنائی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ فروری 1979 میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے 4 کے مقابلے میں 3 ججز کے اکثریتی فیصلے سے سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اسی فیصلے کے نتیجے میں 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔
اس کیس کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی تنازع قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کئی دہائیوں تک ملکی اور بین الاقوامی قانونی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنتا رہا۔
سال 2011 میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھٹو پھانسی کیس کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔
یہ معاملہ کئی برس زیر التوا رہا، تاہم 2024 میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں نو رکنی بینچ نے اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 6 مارچ 2024 کو اس صدارتی ریفرنس پر تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے تسلیم کیا کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔ یوں عدالتِ عظمیٰ نے تقریباً 45 سال بعد اس کیس میں ہونے والی سنگین آئینی و قانونی غلطی کا باقاعدہ اعتراف کیا۔
ماضی میں سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں اور ازخود نوٹسز کو جہاں سراہا گیا وہیں بعض اوقات ان پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ ان میں سے چند کیسز پر نظرثانی ہوئی مگر اکثر کیسز میں دیے گئے فیصلے برقرار رہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد پاکستان میں اب سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے سے دو مختلف راستے موجود ہیں۔ عام قانونی معاملات میں سپریم کورٹ اب بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور اس کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ کے ہی دروازہ کھکٹھایا جاسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کی نئی پیش رفت اور وفاقی آئینی عدالت کے اپنے ریمارکس کے مطابق، اب آئینی تشریح اور فیصلوں کی بالادستی کا حتمی اختیار آئینی عدالت کو حاصل ہوچکا ہے۔
نسلہ ٹاور اور مونال ریسٹورنٹ کیسز میں آئینی عدالت کے فیصلوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان کی تمام عدالتیں اب وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابند ہیں اور آئینی معاملات میں وفاقی آئینی عدالت ہی آخری اور حتمی اختیار رکھتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles