ایران کا امریکا پر کیا گیا سب سے مہلک حملہ کون سا تھا؟ واشنگٹن پوسٹ کے بڑے انکشافات

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران یکم مارچ کو کویت میں ہونے والے ایرانی ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اخبار کے مطابق یہ حملہ اس جنگ کے دوران امریکی فوج کو سب سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے والا واقعہ ثابت ہوا، تاہم ان دعوؤں پر نہ پینٹاگون کا باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی ایران نے کوئی بیان جاری کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حملے میں بچ جانے والے متعدد امریکی فوجیوں نے اپنی فوجی قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام کو ممکنہ حملے کے خطرات سے متعلق پیشگی وارننگز دی گئی تھیں، لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمانڈروں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ جس فوجی تنصیب کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، وہاں حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں اور وہ حملے کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہے۔ اس کے باوجود صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے فوراً بعد سینئر فوجی کمانڈرز امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے بجائے عمارت چھوڑ کر چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے بھی مناسب انتظامات نہیں کیے گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ فوجیوں اور عینی شاہدین نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پیشگی اطلاعات کے باوجود حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور امدادی کارروائیوں میں مبینہ غفلت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس رپورٹ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اس لیے رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles