
ہم نیٹ ورک کی چیئرپرسن سلطانہ صدیقی نے قائداعظم ہاؤس میوزیم میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے تعلیم، خواتین کے بااختیار ہونے اور ترقی پسند پاکستان کے ویژن سے گہری متاثر ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل پیشہ ورانہ سفر، میڈیا انڈسٹری میں درپیش چیلنجز اور قوم سازی میں میڈیا کے کردار پر بھی اظہارِ خیال کیا۔
کراچی میں قائداعظم ہاؤس میوزیم انسٹی ٹیوٹ آف نیشن بلڈنگ کے زیر اہتمام فلیگ اسٹاف ہاؤس میں ”قائد سے کیمرہ تک: میڈیا کا قوم سازی میں کردار“ کے عنوان سے ایک فکر انگیز نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہم نیٹ ورک کی چیئرپرسن سلطانہ صدیقی مہمانِ خصوصی تھیں۔
تقریب کا آغاز قائداعظم ہاؤس میوزیم کے سینئر وائس چیئرمین لیاقت مرچنٹ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا، جبکہ بورڈ آف گورنرز کی رکن امینہ سعید نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیا۔ اختتامی کلمات کے وائس چیئرمین اکرام سہگل نے ادا کیے۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے سلطانہ صدیقی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کا ویژن آج بھی ان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے پی ٹی وی سے استعفیٰ دینے کے بعد اپنا پروڈکشن ہاؤس قائم کیا، جس کا نام انہوں نے اپنی بہو مومل کے نام پر رکھا۔
انہوں نے کہا کہ اس دور میں میڈیا کے شعبے میں خواتین کا کاروبار کرنا ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی۔
بعد ازاں جب انہوں نے ٹی وی چینل قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو انہیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہ صرف پروڈکشن کمپنی تک محدود رہیں۔ تاہم انہوں نے تمام رکاوٹوں کے باوجود اپنے عزم کو برقرار رکھا اور جنوبی ایشیا کی پہلی خاتون بنیں جنہوں نے ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی ملکیت حاصل کی اور اس کی قیادت کی۔
اس موقع پر خوش بخت شجاعت، شہناز وزیر علی، آزاد اقبال، خورشید حیدر، نسرین جلیل، نرگس رحمان، غازی صلاح الدین، صادقہ اور مشتاق چھاپرہ سمیت اکیڈیمیا، میڈیا اور سول سوسائٹی کی متعدد ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔
نشست کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا عوامی رائے کی تشکیل، ثقافتی شناخت کے تحفظ اور قائداعظم کے ترقی پسند اور روادار پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔