نیتن یاہو کی عالمی سطح پر رسوائی، بیٹے نے بھی والد کا نام ہٹا دیا

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی عالمی سطح پر شدید تنقید اور غزہ میں جاری جنگ کے باعث ان کے خاندان کے افراد بھی اپنی شناخت چھپانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دینے لگے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز اور ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے بڑے بیٹے یائر نیتن یاہو نے قانونی طور پر اپنا نام تبدیل کرکے یوناتان ہون رکھ لیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نام کی یہ تبدیلی عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے عوامی ردِعمل اور نیتن یاہو خاندان سے وابستگی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق یائر نیتن یاہو نے یہ تبدیلی تقریباً ڈھائی سال قبل کی تھی، تاہم یہ معاملہ اس وقت منظرعام پر آیا جب اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے سرکاری دستاویزات سامنے آئیں، جن میں ان کا نیا قانونی نام درج تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے دوسرے بیٹے اوینر نیتن یاہو بھی چند سال قبل اپنا نام تبدیل کر چکے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسرائیل اخبار کے مطابق اسرائیل میں قانونی طور پر نام کی تبدیلی کے بعد اسے کم از کم سات سال تک دوبارہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یائر نیتن یاہو مستقبل میں عوامی طور پر نئے نام کے ساتھ پہچانے جانا چاہتے ہیں یا انہوں نے یہ تبدیلی کسی اور مقصد کے لیے کی ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وہ اب بھی اپنا پرانا نام استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یوناتان نام یائر کے چچا یوناتان (یونی) نیتن یاہو سے منسوب ہے، جو 1976 میں یوگنڈا کے شہر اینٹبے میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

جبکہ ہون یائر کے نانا شموئل بین آرٹزی کا خاندانی نام تھا۔ شموئل بین آرٹزی پہلے سموئیل ہون کے نام سے جانے جاتے تھے، بعد میں انہوں نے اپنا نام عبرانی انداز میں تبدیل کیا۔

ہارٹز کے مطابق یائر نیتن یاہو گزشتہ کئی برسوں سے مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہون نام استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انہوں نے اب اسے سرکاری طور پر اپنانے کا فیصلہ کیوں کیا۔

34 سالہ یائر نیتن یاہو دائیں بازو کے سیاسی کارکن اور پوڈکاسٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے امریکی ریاست فلوریڈا میں مقیم ہیں۔

انہیں سوشل میڈیا پر اپنے سخت سیاسی مؤقف، متنازع بیانات اور یورپ و امریکا کی دائیں بازو کی شخصیات سے روابط کے باعث بھی جانا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث نیتن یاہو کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

متعدد ممالک، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے اسرائیل پر غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

ہارٹز کی رپورٹ میں پیش کیے گئے دعووں پر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر یا نیتن یاہو خاندان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles