
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تہران میں واقع رہائش گاہ اور کمپاؤنڈ کی پہلی مرتبہ ایسی ویڈیو جاری کی ہے جس میں حملوں کے بعد ہونے والی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ویڈیو خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر جاری کی گئی تاکہ حملوں کے اثرات کو عوام کے سامنے لایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے پہلے روز مارے گئے تھے۔ ان کی عمر 86 برس تھی۔ ان حملوں میں ان کے خاندان کے کئی افراد بھی جان سے گئے، جن میں ان کی صرف 14 ماہ کی پوتی بھی شامل تھی۔ بتایا گیا ہے کہ خامنہ ای کے صاحبزادے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای بھی انہی حملوں میں زخمی ہوئے تھے۔
جاری کی گئی 35 سیکنڈ کی ویڈیو میں تہران میں واقع امام خمینی حسینیہ کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو میں عمارت کے مختلف حصے منہدم نظر آتے ہیں، لوہے کے شہتیر مڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہر طرف ملبہ بکھرا ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہی ہال وہ مقام تھا جہاں علی خامنہ ای اہم سرکاری اور سیاسی اجلاس منعقد کرتے تھے اور عوام سے اپنے خطابات بھی کرتے تھے۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب علی خامنہ ای کی تدفین ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جا رہی ہے۔ ان کی آخری رسومات ایک ہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی متعدد تقریبات کے بعد مکمل ہو رہی ہیں۔ اس دوران تہران، قم، عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا سمیت مختلف مقامات پر تعزیتی اجتماعات اور جنازے کی تقریبات منعقد کی گئیں۔
خامنہ ای ان کا تابوت تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں بھی رکھا گیا، جہاں لوگوں نے بڑی تعداد میں حاضری دی، جبکہ بعد ازاں انہیں تہران اور قم لیجایا گیا۔ ایران واپس لانے سے قبل تابوت کو نجف اور کربلا بھی لے جایا گیا، جہاں لاکھوں افراد نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
دوسری جانب خطے میں ایک بار پھر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور امریکا نے ایران پر نئے اور پہلے سے بھی بڑے فضائی حملے کیے ہیں تاکہ سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو جہازوں کے لیے کھلا رکھا جا سکے۔
ادھر ایران کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس شرط کی خلاف ورزی کی ہے جس میں سمندری راستے کی حفاظت کی ذمہ داری ایران کو دی گئی تھی۔