اسپتال انتظامیہ کی غفلت، زندہ بچی مردہ قرار، ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری


ساہیوال کے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال میں مبینہ غفلت کا حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں انتظامیہ نے ایک نومولود بچی کو مردہ قرار دے کر اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا تاہم لاش ورثا کے حوالے نہ کیے جانے پر پولیس ہیلپ لائن 15 سے رابطہ کیا گیا تو بچی زندہ نکلی اور بعد ازاں ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
ساہیوال کے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال میں نومولود بچی کو مردہ قرار دے کر اس کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا جب کہ ورثا کے مطابق انہیں بچی کی لاش بھی فراہم نہیں کی گئی۔

ورثا کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے بچی کی میت حوالے کرنے کے لیے ضروری دستاویزات پر اس کے ماموں سے دستخط بھی کروا لیے تاہم اس کے باوجود لاش ان کے حوالے نہیں کی گئی۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں ورثا کا موبائل نمبر بھی غلط درج کیا گیا تھا۔ بچی کی لاش نہ ملنے پر ورثا نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کیا۔
پولیس کی مداخلت کے بعد معلوم ہوا کہ جس نومولود بچی کو مردہ قرار دیا گیا تھا، وہ زندہ ہے۔ بعد ازاں بچی کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا جب کہ اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی غفلت یا ممکنہ ذمہ داری کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچیوں کی والدہ کے نام ایک جیسے ہونے سے غلط فہمی پیدا ہوئی، والدہ کے ناموں کی مماثلت کے باعث ڈیتھ سرٹیفکیٹ غلط اہل خانہ کو جاری کر دیا گیا غلط فہمی کے بعد متاثرہ خاندان نے احتجاج کیا تو اطلاع پر پولیس اور میڈیا بھی اسپتال پہنچ گئے۔
انتظامیہ نے کہا کہ تحقیقات میں معلوم ہوا نومولود بچی زندہ ہے جب کہ وفات پانے والی دوسری بچی تھی، اسپتال انتظامیہ نے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کے بعد دونوں بچیوں کی درست شناخت کی، والدہ کے نام ایک جیسے ہونے کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles