
ایران نے بحرین کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے مزید اشتعال دلایا گیا تو تہران پہلے سے بھی زیادہ سخت ردعمل سامنے آئے گا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بحرین کو سخت وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حد پہچانے، اپنی تقدیر کے ساتھ ایسے کھیل نہ کھیلے اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں جمعہ اور ہفتہ کو بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اس کی سرزمین پر حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب خلیجی ممالک نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
بحرین کی حکومت نے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران بحرینی حکام درجنوں افراد کو گرفتار بھی کر چکے ہیں۔ حکام کا الزام ہے کہ ان افراد کے ایران کے ساتھ فوجی نوعیت کے روابط تھے، تاہم ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا اور تسنیم نے دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے کویت میں امریکی علی السالم ایئربیس اور بحرین کے دارالحکومت منامہ کی پورٹ سلمان میں قائم امریکی ففتھ نیول فلیٹ پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔
آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کے پانچ ساحلی مقامات پر امریکی بمباری کے جواب میں کی گئی ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔