
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ رابطے اور منظوری کے بغیر کسی بھی نئے سمندری راستے کا استعمال قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے واضح کیا ہے کہ سمندر میں صرف وہی راستے استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کی نشاندہی ایران کی جانب سے کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان راستوں سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے ایرانی فوج کے مقرر کردہ مواصلاتی چینل پر رابطہ کرنا لازمی ہوگا۔
ایرانی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا، ”طے شدہ راستوں سے ہٹ کر جہاز چلانا انتہائی خطرناک ہے اور اس پر سخت پابندی عائد ہے، اس لیے تمام جہازوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ مقررہ راستوں سے باہر جانے سے گریز کریں۔“
ایران نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ جو بحری جہاز اس کی ہدایات کو نظر انداز کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے اہم سمندری راستے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اپنی منظوری کے بغیر کسی متبادل راستے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم خطے میں جہاز رانی کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
ایرانی وارننگ اس وقت سامنے آئی جب ہفتے کے روز بحری امور سے وابستہ ایک بڑے گروپ نے جہازوں کو متبادل جنوبی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ عمان کے سمندری علاقے سے متصل جنوبی راستہ بارودی سرنگوں سے پاک ہے، لہٰذا جہاز اپنے سگنل فعال رکھتے ہوئے وہاں سے گزر سکتے ہیں۔
سمندری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے میرین ٹریفک کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہوا ہے اور 90 سے زائد جہاز اس راستے سے گزرے ہیں۔ تاہم یہ تعداد جنگ سے قبل کے معمولات سے اب بھی کم ہے، کیونکہ پہلے روزانہ 100 سے زیادہ جہاز اس گزرگاہ سے گزرا کرتے تھے۔
میرین ٹریفک کے مطابق جہاز ران اس وقت غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور مکمل طور پر سابقہ معمولات پر واپس آنے کے بجائے ایران، عمان اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مختلف راستوں کا امتزاج استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے مئی میں ایران کی متعلقہ اتھارٹی پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کسی قسم کا ٹیکس یا فیس وصول کرنے کا نظام قبول نہیں کرے گا اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
بحرین کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہے۔
بحرین کی قیادت سے ملاقات کے دوران ان کا کہنا تھا، ”ہم ایران کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے جس میں ہمارے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔“
ایران کی جانب سے ممکنہ ٹیکس یا فیس کے مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے انٹونی روبیو نے کہا، ”آپ اسے ٹیکس کہیں یا فیس، آخرکار مقصد راستے پر رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔“
اسی اجلاس میں بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے عمان کی جانب سے جہازوں کی حفاظت کے لیے نئے سمندری راستے کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے خطے میں سمندری تجارت کو مزید محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔