
امریکا میں ٹیکساس کے ایک امیگریشن حراستی مرکز کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران فائرنگ اور ایک پولیس افسر کو زخمی کرنے کے مقدمے میں سابق میرین ریزروسٹ بینجمن سانگ سمیت آٹھ افراد کو طویل قید کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں گزشتہ سال 4 جولائی کو ڈلاس کے قریب واقع پریری لینڈ ڈیٹینشن سینٹر کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ملوث سابق امریکی میرین ریزروسٹ بینجمن سانگ کو منگل کے روز 100 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو اس مقدمے میں دی جانے والی زیادہ سے زیادہ سزا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دیگر سات ملزمان کو بھی مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں، جن کی مدت 30 سے 70 سال کے درمیان ہے۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ یہ واقعہ ”دہشت گردی“ کے زمرے میں آتا ہے اور تمام ملزمان بائیں بازو کی کارکن تحریک ”اینٹی فا“ سے وابستہ تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اینٹی فا کو ”داخلی دہشت گرد تنظیم“ قرار دیا تھا۔
دوسری جانب دفاعی وکلا نے اینٹی فا سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سیاسی احتجاج میں شریک تھے اور ان کے خلاف الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
ملزمان کے اہل خانہ نے سخت سزاؤں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ آٹم ہِل کی شریک حیات لیڈیا کوزا نے کہا کہ حکومت صرف احتجاج میں شرکت کی وجہ سے ان کی پوری زندگی چھین لینا چاہتی ہے، حالانکہ اس واقعے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج ریڈ او کونر نے ریمارکس دیے کہ یہ کوئی احتجاج نہیں بلکہ ”جمہوریت پر حملہ“ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔
یہ مقدمہ ٹیکساس سے باہر بھی توجہ کا مرکز بنا رہا، جہاں ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے کے اثرات امریکا میں احتجاج کے حق اور آئینی آزادیِ اظہار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق صدر ٹرمپ کے اینٹی فا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں اینٹی فا سے وابستہ قرار دیے گئے افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کا اسلحہ، ابتدائی طبی امداد کا سامان اور جسمانی حفاظتی لباس کے ساتھ وہاں آنا اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے ارادے پرامن نہیں تھے۔
محکمہ انصاف کے مطابق بینجمن سانگ نے موقع پر ”رائفلوں کی طرف جاؤ“ کا نعرہ لگایا اور فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں وہاں پہنچنے والا ایک پولیس افسر زخمی ہو گیا۔
دفاعی وکلا کا کہنا تھا کہ کسی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور جن افراد کے پاس اسلحہ تھا وہ صرف اپنی حفاظت کے لیے اسے ساتھ لائے تھے۔ ان کے مطابق اجتماع کا مقصد حراستی مرکز میں موجود تارکین وطن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا اور مظاہرے میں آتش بازی بھی اسی مقصد کے لیے کی گئی تھی۔
بینجمن سانگ کے وکیل فلپ ہیز نے اپنے مؤکل کو ”انتہا پسند“ قرار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے تھے اور کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔