فیفا ورلڈ کپ: کیوراساؤ کے گول کیپر ایلوئے روم نے 15 گول روک کر دنیا کو حیران کر دیا

امریکی شہر کینساس سٹی میں کھیلے گئے فٹبال ورلڈ کپ کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور یادگار مقابلے میں کیوراساؤ کی ٹیم نے ایکواڈور کو 0-0 سے برابر کرکے تاریخ رقم کر دی ہے۔ کیریبین سمندر کے اس انتہائی چھوٹے سے ملک نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا پہلا پوائنٹ حاصل کیا ہے جس کا پورا سہرا ان کے 37 سالہ گول کیپر ایلوئے روم کے سر جاتا ہے۔

37 سالہ ایلوئے روم نے پورے میچ میں 15 شاندار سیوز کیے اور ایکواڈور کے مسلسل حملوں کو ناکام بنایا۔ ان کی اس غیرمعمولی کارکردگی کی بدولت کیوراساؤ نے اپنی ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا پوائنٹ حاصل کیا۔ ایلوئے روم اس وقت امریکا کے یو ایس ایل چیمپئن شپ کلب میامی ایف سی کی نمائندگی کرتے ہیں۔

میچ کے بعد ایلوئے روم نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کی ناقابلِ فراموش یادوں میں شامل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ایک گول کیپر کے طور پر یہ تقریباً ایک مکمل میچ تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ اب شاید کیوراساؤ میں ان کا مجسمہ بن جانا چاہیے۔

ایلوئے روم کی 15 سیوز ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نمایاں کارنامہ ہیں۔ 2014 میں امریکا کے ٹم ہاورڈ نے بیلجیئم کے خلاف 16 سیوز کیے تھے، تاہم وہ میچ اضافی وقت تک گیا تھا۔ ایلوئے روم نے یہ کارنامہ مقررہ 90 منٹ میں انجام دیا، جو اسے مزید خاص بناتا ہے۔

اس نتیجے کا ایک اور اہم اثر یہ ہوا کہ جرمنی نے اسی روز آئیوری کوسٹ کو 1-2 سے شکست دینے کے بعد گروپ ای سے اگلے مرحلے کے لیے اپنی جگہ یقینی بنا لی۔ دوسری جانب ایکواڈور کی صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے اور اب اسے اپنے آخری گروپ میچ میں جرمنی کے خلاف بہتر نتیجے کی ضرورت ہوگی۔

میچ کے آغاز سے ہی ایکواڈور کو شائقین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اسٹیڈیم میں زیادہ تر تماشائی زرد شرٹس پہنے ہوئے تھے اور ماحول ایکواڈور کے حق میں دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے باوجود کیوراساؤ کی ٹیم نے اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا۔

پہلے ہاف میں کیوراساؤ نے بھی کئی مواقع بنائے اور ایکواڈور کے دفاع میں دراڑیں تلاش کیں، لیکن آخری پاس اور فائنل شاٹ میں کمی کی وجہ سے وہ گول نہ کر سکی۔ دوسری جانب ایکواڈور کے تجربہ کار فارورڈ اینر ویلنشیا کو ابتدائی لمحات میں بہترین موقع ملا، مگر ایلوئے روم نے عمدہ انداز میں شاٹ روک کر اپنی ٹیم کو نقصان سے بچا لیا۔

کیوراساؤ کے مڈفیلڈر تاحیت چونگ نے میچ کے بعد کہا کہ ان کے لیے ایلوئے روم کی ایسی کارکردگی کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ ٹیم ان کے غیرمعمولی بچاؤ دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے۔

دوسرے ہاف میں ایکواڈور نے حملوں کی رفتار مزید تیز کر دی۔ موئسز کائیسیڈو اور اینر ویلنشیا سمیت کئی کھلاڑیوں نے گول کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار ایلوئے ان کے راستے میں کھڑے نظر آئے۔ ایک موقع پر انہوں نے مسلسل تین خطرناک مواقع ناکام بنا کر اپنی ٹیم کو یقینی گول سے بچایا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایکواڈور نے میچ میں 27 شاٹس لیے جبکہ کیوراساؤ نے 10 شاٹس لگائے۔ ایلوئے روم کی 15 سیوز میں سے 10 پینلٹی ایریا کے اندر سے آنے والے شاٹس پر تھیں، جو ان کی کارکردگی کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہیں۔

ایکواڈور کے کوچ سیباسٹین بیکاسیسے نے میچ کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم جیت کی مستحق تھی، لیکن فٹبال میں بعض اوقات ایسے نتائج سامنے آتے ہیں جن کی وضاحت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے شکست نہ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کی ٹیم ٹورنامنٹ میں موجود ہے، وہ بھرپور کوشش جاری رکھے گی۔

میچ میں نیدرلینڈز کے بادشاہ ولیم الیگزینڈر اور ملکہ میکسیما بھی موجود تھے، جوکیوراساؤ کی اس تاریخی کامیابی کے گواہ بنے۔ ایلوئے روم کے مطابق شاہی جوڑا میچ کے بعد ڈریسنگ روم میں ٹیم کی موسیقی پر رقص بھی کرتا رہا، جو ان کے لیے ایک ناقابلِ یقین لمحہ تھا۔

اب گروپ ای کے آخری میچوں میں کیوراساؤ کا مقابلہ آئیوری کوسٹ سے ہوگا جبکہ ایکواڈور جرمنی کے خلاف میدان میں اترے گا۔ اس تاریخی ڈرا کے بعد کیوراساؤ نے نہ صرف اپنا پہلا ورلڈ کپ پوائنٹ حاصل کیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ عالمی فٹبال میں چھوٹی ٹیمیں بھی بڑے حریفوں کو حیران کر سکتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles