
نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعینات نمائندہ برائے خصوصی مشن رچرڈ گرینیل نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات کرنے کی تیاری کرلی ہے، ہم چاہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کیا جائے، عمران خان پر بھی ٹرمپ کی طرح کرپشن کے جھوٹے الزامات ہیں۔
امریکی ٹی وی پروگرام ’نیوز لائن‘ کی میزبان بیانکا ڈی لاگرزا نے رچرڈ یا رک گرینیل سے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خصوصی مشن کے سفیر کے طور پر نامزد کیے جانے اور پاکستان کے ساتھ امریکا کے خارجہ تعلقات کی پالیسی کے بارے میں بات کی۔
رچرڈ گرینیل نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہاکہ عقل وفہم رکھنے والے غیر روایتی سیاستدان ملک بہتر چلاسکتے ہیں، اسی لئے ہم عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں، اگر بانی پی ٹی آئی وزیراعظم کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔
امریکی قومی انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر رچرڈ گرینیل نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سیاست میں باہر سے آنے والے لوگ، غیر سیاسی، عام فہم لوگ، کاروباری لوگ میرے ساتھ بہترین کام کرتے ہیں۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ عمران خان جیل سے رہا ہوں۔
گرینیل کے بقول صدر ٹرمپ کی طرح بانی پی ٹی آئی بھی بہت سے الزامات ہیں، حکمراں جماعت نے انہیں جیل میں ڈال دیا تھا اور کسی نہ کسی طرح کے بدعنوانی کے الزامات اور جھوٹے الزامات لگائے تھے۔
ایک سوال پر کہ کیا بانی پی ٹی آئی ممکنہ طور پر اس بارے میں کچھ آگاہی لانے کے نتیجے میں آزاد ہو سکتے ہیں؟ جواب میں گرینیل نے کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ پاکستان کو ان موضوعات کی طویل فہرست میں شامل کریں جو جیک سلیون اور بائیڈن کی ٹیم نے گذشتہ 4 سالوں میں کوئی پیشرفت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے دور حکومت میں پاکستان سے بہترین تعلقات تھے، اس وقت پاکستان میں بانی پی ٹی آئی کی حکومت تھی، عمران خان سے ٹرمپ کے بہت اچھے تعلقات تھے۔
نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان کو ان ممالک کی لسٹ میں شامل کیا جائے جو معاملات کو ٹال رہے ہیں، پاکستان 4 سال سے معاملات کو ٹال رہا ہے۔
رچرڈ گرینیل نے اپنی وزارت خارجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا بیان انتہائی عجیب اور مبہم ہے، ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو کوئی بھی نہیں سمجھتا۔
ان کا کہنا تھا کہ میتھیو ملر یہ مت کہیں کہ ہم عدالتی طریقہ کار کا احترام کرتے ہیں، وہ دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ بانی کو رہا کرو، تو آپ سیدھا سیدھا کہیں کہ بانی کو جیل سے نکالو، صاف کہیں کہ عوام کو اپنا فیصلہ کرنے دیں۔
رچرڈ گرینل نے کہا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ملکوں سے مختلف انداز میں ڈیل کیا جاتا ہے، بائیڈن انتظامیہ جو کام 4 سال میں کرنے میں ناکام رہی وہ آخری 45 دن میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس وقت کے پاکستانی سربراہ حکومت سے بہترین تعلقات تھے، پاکستانی جیل میں قید رہنما ٹرمپ کی طرح سیاست میں آؤٹ سائیڈر تھے، اور وہ کامن سینس کی بات کرتے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کے 4 اداروں پر پابندی لگائی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیوملر کے مطابق ان 4 پاکستانی اداروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے۔
امریکی پابندیوں کا شکار ہونے والے پاکستانی اداروں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس اور کراچی میں 3 ادارے اختر اینڈ سنز، ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل اور روک سائیڈ انٹرپرائزز شامل ہیں۔
دوسری جانب ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان فائنر نےکہا تھا کہ پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جو امریکا کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں امریکا کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون کرنے پر 4 کمپنیوں پر پابندی کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی فیصلہ متعصبانہ ہے، پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
ملکی امورمیں بیرونی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، طلال چوہدری
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما طلال چوہدری نے امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینیل کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ امریکا گود میں پالے شخص کو اقتدار میں لانا چاہتا ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کرسکے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان اورامریکا کے تعلقات انتہائی اہم ہیں لیکن ہم ملکی امور میں کسی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔