
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حکومت، فوج اور قیادت کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار ہو چکا ہے جب کہ معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پیر کو تہران میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس جنگ کے دوران ایران کے کئی اعلیٰ رہنما شہید ہوئے، جسے ایرانی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، ہم نے قربانیاں دیتے ہوئے اپنے وطن کا دفاع کیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 110 دن تک جاری رہنے والے حالات میں ایرانی عوام نے اپنی حکومت اور فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں اپنی قیادت کو کھونے کے باوجود عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیے گئے مظالم کو نہیں بھولے گا جب کہ شہید ہونے والے ایرانیوں کو خراجِ عقیدت اور سلام پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار ہو چکا ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ آئندہ کس طرح آگے بڑھتا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کو اپنے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے، گزشتہ 24 گھںٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، ایران، امریکا معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستخط سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے، معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے، امریکی حکومت کو ایرانی عوام کا بھروسہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہوگا، جنگ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ختم ہونی چاہیے، منجمد اثاثوں پر ایران کا حق ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان پر حملوں کا خاتمہ امریکا اور ایران معاہدے کا حصہ ہے، مفاہمتی یاد داشت پر جمعے کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کے میکنزم کو آج یا کل فائنل کیا جائے گا، میکنزم کو فائنل کرنے کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، لبنان کی خود مختاری کا احترام کیا جائے، لبنان کی خود مختاری کے لیے واضع قانونی فریم ورک بننا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارے ایران پر امریکا اور صیہونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے۔