امریکا-ایران معاہدہ قریب، آئندہ 24 گھنٹوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے: وزیراعظم شہباز شریف


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب آچکا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے پیش رفت آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن معاہدے پر فوری طور پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد اگلے مرحلے میں تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی۔
وزیراعظم نے ممکنہ امن معاہدے کے سلسلے میں مثبت رویے پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل کے دوران فریقین کے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے والے برادر ممالک کے کردار کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا استحکام اور امن کے قیام کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی ایک بیان میں امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کرتے ہوئے ایران امریکا معاہدے پر اتفاق کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران میں امن معاہدہ پرحتمی فیصلہ ہوچکا ہے، پاکستان اب فریقین کے ساتھ مل کر اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کررہا ہے۔
دوسری جانب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس ممکنہ امن معاہدے پر مکمل اتفاق کی صورت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوگی جس میں وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک ہوں گے، تاہم اس خبر کی تاحال سرکاری حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔
البتہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کاسس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
سوئس وزیر خارجہ نے امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا جبکہ پاکستان کی علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔

یہ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی اور سوئس وزرائے خارجہ کے درمیان دوسرا رابطہ ہے۔ دونوں ممالک نے آئندہ پیش رفت پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اُدھر وزیراعظم شہبازشریف کی جنیوا جانے سے متعلق خبریں زیرِ گردش ہیں کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق پاکستان اور سوئس حکام کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اطلاعات سامنے آئی کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی دستخطی تقریب اتوار کے روز جنیوا میں منعقد ہو سکتی ہے۔
ترک خبر ایجنسی نے امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو امریکی فضائیہ کے چار سی-17 ٹرانسپورٹ طیارے یورپ روانہ ہوئے تھے، جو ممکنہ طور پر امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے جنیوا کے دورے کے لیے درکار سامان لے جا رہے تھے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز جنیوا میں امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا دعویٰ بالکل جھوٹ ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر اتوار کو جنیوا میں دستخط ہوں گے، مکمل طور پر غلط ہے۔
فارس کے مطابق اتوار کی تاریخ اور جنیوا کے مقام، دونوں کی مکمل طور پر تردید کی گئی ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک مغربی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے جنیوا سب سے زیادہ متوقع مقام قرار دیا جا رہا تھا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران ایرانی جوہری پروگرام اور امریکی بنیادی و ثانوی پابندیوں کے مکمل خاتمے سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تہران نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے اس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles