چین کے صحراؤں میں سیلاب کا خدشہ، حکام کی وارننگ جاری

چین نے اپنے شمال مغربی صوبے سنکیانگ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مقامی آبادی کو خبردار کیا ہے کہ وہ رواں موسمِ گرما میں شدید سیلابی صورت حال کے لیے تیار رہیں، کیونکہ غیر معمولی گرمی، شدید بارشوں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے سب سے بڑے صحرائی علاقے، تکلامکان ریگستان، میں جون کے آغاز ہی میں رواں سال کا پہلا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ جمعے کے روز نشر کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی عام طور پر خشک رہنے والے ریت کے ٹیلوں میں بھر گیا۔

اگرچہ تکلامکان ریگستان میں 2021 سے ایسے سیلاب آتے رہے ہیں، تاہم عموماً یہ اگست میں وقوع پذیر ہوتے ہیں جب درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ اس سال صورتحال مختلف رہی اور گرمی کی شدت معمول سے کہیں پہلے بڑھ گئی۔

رائٹرز کلائمیٹ مانیٹر کے مطابق 12 جون کو سنکیانگ کا درجہ حرارت اس موسم کے معمول سے 7.3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔

سنکیانگ کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران بارشوں کی مقدار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی کے مطابق بعض علاقوں میں جون کے اوائل کے تاریخی اوسط کے مقابلے میں بارشیں دو سے تین گنا زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

شدید گرمی اور بارشوں کے امتزاج نے صحرائی سیلابوں کو جنم دیا ہے۔ تیان شان اور کونلون پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز اور برف کی وسیع تہیں تیزی سے پگھل رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کا بہاؤ چین کے سب سے طویل اندرونی دریا، دریائے تاریم، میں پہنچ رہا ہے۔

پانی کی اس بڑی مقدار کے باعث دریائے تاریم اپنے کناروں سے باہر نکل آیا اور اس کا پانی صحرائی علاقے کے نشیبی حصوں میں پھیل گیا۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ موسمی سیلاب عارضی طور پر مختصر مدت کے لیے نخلستان نما علاقے پیدا کر سکتے ہیں، تاہم ان کے زیادہ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکلامکان ریگستان سمندر سے بہت دور واقع ہے اور چاروں طرف بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، جس کے باعث نمی کی سطح کم رہتی ہے جبکہ شدید بخارات جلد ہی پانی کو خشک کر دیتے ہیں۔

اگرچہ یہ پانی مقامی جنگلات کے لیے اہم آبپاشی فراہم کرتا ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

چین کی موسمیاتی انتظامیہ کی تجزیہ کار سن چیان چیان نے سی سی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید سیلاب سڑکوں، ریلوے لائنوں اور تیل و گیس کی تنصیبات کو تباہ کر سکتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر آفات کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی موسم کے دوران ان علاقوں کے رہائشیوں اور مسافروں کو سرکاری انتباہات پر گہری نظر رکھنی چاہیے، اپنے سفری منصوبوں میں ضروری تبدیلیاں کرنی چاہئیں اور حفاظت کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles