امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے موجودہ دورِ صدارت میں مجرموں کی سزائیں معاف کرنے اور صدارتی رعایت دینے کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ماضی کی تمام روایات اور امریکی محکمہ انصاف کے قوانین کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک ایسا ذاتی اور غیر رسمی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے جہاں اثر و رسوخ، سیاسی وفاداری اور تعلقات کی بنیاد پر سزائیں معاف کی جا رہی ہیں۔
ماضی میں کسی بھی مجرم کو صدارتی معافی کے لیے محکمہ انصاف کے سخت قوانین پر پورا اترنا پڑتا تھا، جیسے سزا کے بعد پانچ سال کا انتظار یا اپنے جرم پر پشیمانی کا اظہار، لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہو چکی ہے۔
رائٹرز نے ڈیٹا اور 50 سے زائد افراد کے انٹرویوز پر مبنی تجزیے کے بعد دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ کے موجودہ دور میں دی جانے والی 96 فیصد صدارتی معافیاں محکمہ انصاف کے طے شدہ قوانین کے خلاف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اب معافی حاصل کرنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ درخواست گزار کی رسائی صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے تک کس حد تک ہے، اور کیا وہ اپنی کہانی کو اس انداز میں پیش کر سکتا ہے جس سے صدر ٹرمپ کے دل میں ہمدردی پیدا ہو سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ، جو خود ماضی میں وفاقی تحقیقات کا سامنا کر چکے ہیں، ان لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہوتے ہیں جو خود کو قانون یا نظام کا مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں۔
اس نئے نظام کی ایک واضح مثال الیکٹرک گاڑیوں کے تاجر ٹریور ملٹن کی ہے، جنہیں سرمایہ کاروں سے 66 کروڑ ڈالر کا فراڈ کرنے پر سزا ہوئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے انہیں معافی دینے سے چند دن قبل خود فون کیا اور بتایا کہ وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، جنہیں وہ پیار سے ’بوبی‘ کہتے ہیں، انہوں نے ان کی سفارش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ملٹن سے کہا کہ آپ کے پاس بہت بڑی سفارش تھی، آپ بوبی کینیڈی کو فون کریں اور ان کا شکریہ ادا کریں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب معافی کے لیے محکمہ انصاف کے بجائے ’بوبی‘ جیسے بااثر لوگوں کے فون زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
اس تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی، جیسے راجر اسٹون اور اینجلا اسٹینٹن کنگ، جو خود ماضی میں صدارتی معافی حاصل کر چکے ہیں، اب دوسروں کو معافی دلوانے کے لیے اہم ترین مڈل مین بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے تک رسائی دلوانے والے یہ مڈل مین اس کام کے لیے 20 لاکھ ڈالر تک کی بھاری رقم بھی وصول کرتے ہیں۔
اس حوالے سے اینجلا اسٹینٹن کنگ نے اعتراف کیا کہ ”میرے پاس رسائی ہے، میرے تعلقات ہیں، اور میں اس بہترین پوزیشن میں ہوں کہ کسی کی درخواست کو فائلوں کے ڈھیر میں مٹی چاٹنے سے بچا سکوں۔“
دوسری طرف راجر اسٹون کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام پیسوں کے لیے نہیں بلکہ نظام کی زیادتیوں کے خلاف کرتے ہیں۔

اس صورتحال پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن کا کہنا ہے کہ ”معافی دینے کا آئینی اختیار صرف صدر کے پاس ہے اور اس کا ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔“
محکمہ انصاف کے ترجمان نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ سفارشات بھیجتے رہتے ہیں۔
تاہم، صدر ٹرمپ کے اس صدارتی اختیارات کے کھلے استعمال نے قانونی ماہرین اور خود وائٹ ہاؤس کے اندر کچھ اعلیٰ حکام کو پریشان کر دیا ہے، یہاں تک کہ چیف آف اسٹاف سوسی وائلز نے بھی مڈ ٹرم الیکشن کے خوف سے اس عمل کو کچھ دیر روکنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب معافی کے پیچھے صرف پیسہ، تعریف، پارٹی بازی اور تعلقات ہی رہ گئے ہیں۔
اس نئے ماحول میں روایتی وکلاء یا رجسٹرڈ لابی کرنے والوں کی خدمات بھی ناکام ثابت ہو رہی ہیں، اور صرف وہی لوگ کامیاب ہو رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے مزاج کے مطابق مظلومیت کی کہانی تیار کر سکتے ہیں۔
ایک معافی کنسلٹنٹ سیم مینگل، جو خود بھی معافی کے خواہشمند ہیں، اپنے گاہکوں کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ ”کیا آپ ایسی کہانی بنا سکتے ہیں جو اس انتظامیہ اور خود صدر کے حالات سے ملتی جلتی ہو؟“
یہی وجہ ہے کہ اب امریکا میں صدارتی معافی کا یہ پورا عمل ’گیم آف تھرونز‘ کی طرح بن چکا ہے، جہاں قانون کے بجائے یہ دیکھا جاتا ہے کہ اقتدار میں کون بیٹھا ہے اور کس کا کس سے کیا تعلق ہے۔