
حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے رواں مالی سال کے اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری مالی سال کا اقتصادی سروے کے مطابق لائیو اسٹاک یعنی مال مویشی کے شعبے کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی ہے، جبکہ اس کا ہدف 4.2 فیصد تھا۔
ملک میں مویشیوں کی تعداد کے دلچسپ اور اہم اعدادوشمار بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے بڑھ گئی ہے اور گائیوں کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
اسی طرح بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے زیادہ، بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد، اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار، جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔
ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار بتائی گئی ہے، جس میں سالانہ 1.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہی گیری یعنی مچھلیوں کے شعبے میں 1.66 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا ہدف تین فیصد تھا۔
اقتصادی سروے میں ملکی معیشت کے حجم، فی کس آمدن اور مختلف شعبوں کی کارکردگی کے اہم ترین اعدادوشمار بھی سامنے آئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب یہ سروے رپورٹ باقاعدہ طور پر پیش کریں گے، جبکہ بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔
اس اہم ترین دستاویزی رپورٹ کی ایک کاپی وزیر خزانہ نے پہلے ہی وزیراعظم کو پیش کر دی ہے۔ سروے دستاویزات کے مطابق اس مالی سال کے دوران ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں گیارہ اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملکی معیشت کا کل حجم 126.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔
معاشی ترقی کی رفتار اور عوامی آمدنی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی عبوری جی ڈی پی گروتھ یعنی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی ہے، جبکہ حکومت نے اس کے لیے 4.2 فیصد کا ہدف مقرر کیا تھا۔
ایک عام آدمی کی معاشی حالت کے حوالے سے دستاویزی نکات بتاتے ہیں کہ پاکستانی کرنسی میں ایک شہری کی فی کس سالانہ آمدن اب 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے ہو گئی ہے، جو گزشتہ سال 4 لاکھ 99 ہزار 118 روپے تھی۔ اگر اسے امریکی ڈالر میں دیکھا جائے تو اس میں 150 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ گزشتہ سال کے 1751 ڈالر کے مقابلے میں اب 1901 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
دیگر اہم شعبوں کی بات کی جائے تو تعلیم کے شعبے نے بہترین کارکردگی دکھائی اور 4.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 5.23 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔
زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2.99 فیصد رہی، جس کا ہدف 4.5 فیصد تھا۔ جنگلات کی شرح نمو 2.02 فیصد رہی۔ صنعتی شعبے میں مجموعی ترقی 3.51 فیصد رہی، تاہم بڑی صنعتوں نے 3.5 فیصد کے ہدف کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 6.11 فیصد کی شاندار گروتھ دکھائی، جبکہ چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 8.5 فیصد رہی۔
خدمات یعنی سروسز کے شعبے نے 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد کی ترقی کی، اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ترقی کی شرح 3.63 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔