
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے معاہدے تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ایک جانب خطے میں ایک دوسرے پر حملوں کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے لیے بھی کوششیں جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ہے ایران کے پاس عملاً اب کوئی بحری یا فضائی فوج موجود نہیں، ان کی فوج مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کی مرضی کے بغیر کوئی جہاز نہیں گزر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے میں بہت تاخیر کردی ہے، یہ معاہدہ اس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا مگر ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو اب اس تاخیر کی قیمت چکانا ہوگی۔
ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے مزید سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو وہ ایران میں توانائی کے مراکز اور پلوں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو معاہدہ کرنے اور اپنے تحفظ کا موقع ملا تھا، تاہم اب اسے ممکنہ طور پر مزید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ وہ مذاکرات میں سستی دکھا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اہداف کو دوبارہ نشانہ بنانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔