
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے فیفا نے ورلڈ کپ 2026 میں ایران کے گروپ مرحلے کے میچز کے لیے ایرانی شائقین کے لیے مختص ٹکٹس واپس لے لیے ہیں، جس کے باعث ایرانی شائقین کو اپنی قومی ٹیم کے میچز دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 تین روز بعد 12 جون سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ میگا ایونٹ میں ایران بھی شریک ہے جو اپنے تمام میچز امریکا میں کھیلے گی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے منگل کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ورلڈ کپ میں شریک ہر ٹیم کی فیڈریشن کو فیفا قوانین کے تحت اپنے میچز کے لیے اسٹیڈیم کی مجموعی گنجائش کا 8 فیصد ٹکٹ کوٹہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے شائقین میں تقسیم کر سکے۔
فیڈریشن کے مطابق ایران کو بھی اپنے گروپ مرحلے کے میچز کے لیے ٹکٹوں کا کوٹہ دیا گیا تھا تاہم ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے چند روز قبل ٹرمپ حکومت کی جانب سے یہ کوٹہ واپس لے لیا گیا، جس کے باعث ایرانی شائقین کو ٹکٹ فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ کھیلوں کے سب سے بڑے عالمی ایونٹ کی میزبانی میں غیر کھیلوں اور سیاسی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایرانی شائقین کی اسٹیڈیموں میں موجودگی کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فیفا ٹکٹوں کی فروخت اور تقسیم کے تمام معاملات کا مکمل اختیار رکھتا ہے تاہم فیفا کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
ایران 15 جون کو کیلی فورنیا کے شہر انگل ووڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ورلڈ کپ سفر کا آغاز کرے گا۔ اس کے بعد 21 جون کو اسی مقام پر بیلجیئم جب کہ 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف میدان میں اترے گا۔
ایرانی ٹیم نے پہلے امریکا کی ریاست ایریزونا کے شہر ٹکسن میں تربیتی کیمپ لگانے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم بعد ازاں اپنا بیس میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا منتقل کر دیا۔
ایرانی فٹبال حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے بعض انتظامی عہدیداروں کو امریکا کے ویزے جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث ٹیم کے انتظامی امور متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی امیگریشن پالیسیوں سے متعلق دیگر تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق فیفا کی جانب سے نامزد ایک صومالی ریفری کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں ملی جب کہ عراق کے ایک کھلاڑی کو امریکا پہنچنے پر کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور وفد کے ساتھ موجود ایک فوٹوگرافر کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
فیفا کے انسدادِ امتیاز نگرانی کے شراکت دار ادارے فیئر نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیارا پوار نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ صورت حال کے باعث یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ ورلڈ کپ کا انتظام فیفا کر رہا ہے یا امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسیاں۔
واضح رہے کہ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے 2017 میں کہا تھا کہ ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے والی تمام ٹیموں، ان کے شائقین اور عہدیداروں کو میزبان ملک میں داخلے کی اجازت ملنی چاہیے، بصورت دیگر ورلڈ کپ کے انعقاد کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔