دو یا تین روز میں ایران کے ساتھ معاہدے کا منصوبہ پیش کرسکتے ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی برقرار رہنے کے باوجود صورت حال پر امریکا کی نظر ہے اور خطے کی پیش رفت کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کو روکنے پر اتفاق کے بعد بھی امریکا اور ایران کی بات چیت جاری رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک باضابطہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے اور معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات فوری طور پر معمول پر آ جائیں گے، تاہم ان کے مطابق ایران معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے اور سفارتی حل کی طرف پیش رفت ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایک باضابطہ اور دستخط شدہ دستاویز موجود ہوگی جو ان کے بقول فوجی کارروائی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوگی۔

امریکی صدر نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر امریکا چاہے تو بمباری کرنا بہت آسان ہے اور چند ہفتوں کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر چند ہفتے بمباری کی جائے تو مخالف فریق کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا، جبکہ اس کے برعکس آبنائے ہرمز مہینوں تک بند رہ سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایسی صورتحال میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہو سکتا ہے اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا کا اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور دیرپا حل فراہم کرے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles