آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ: امریکی اخبار کا دعویٰ

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا اے ایچ-64 اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکاروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ اس واقعے سے آگاہ دو افراد نے اس معاملے کی تصدیق کی ہے۔

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کا شکار ہوا یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا، واقعہ پیر کے روز پیش آیا۔

امریکی اخبار کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ کا تعین تاحال نہیں کیا جاسکا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران کشیدگی میں اضافہ اور پھر نسبتاً کمی دیکھنے میں آئی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا راستہ اختیار کیا، جس سے جنگ بندی کی نازک صورت حال ایک بار پھر نمایاں ہوگئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کی رات تک ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعے کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس سے رابطے کے باوجود فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، جبکہ صدر ٹرمپ کے ترجمان نے بھی فوری بیان جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بھی اس پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر تجارتی بحری آمدورفت کے لیے مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد خطے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپاچی ہیلی کاپٹروں کے علاوہ مسلح ایم کیو-9 ریپر ڈرونز، ایف/اے-18 اور ایف-35 جنگی طیارے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

جنگ کے آغاز، جو 28 فروری سے جاری ہے، کے بعد ایران تقریباً 30 ریپر ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جبکہ امریکی فضائیہ کے چند جنگی طیارے بھی دشمن کے حملوں کا نشانہ بن کر تباہ ہوئے۔ تاہم موجودہ تنازع کے دوران کسی اپاچی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کا یہ پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر جاری کی تھیں جن میں کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر آبنائے ہرمز یا اس کے قریبی سمندری علاقوں کے اوپر پرواز کرتے دکھائی دیے تھے۔

یہ پرواز امریکی بحریہ کے ایک مختصر آپریشن پروجیکٹ فریڈم سے قبل کی گئی تھی، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

اے ایچ-64 اپاچی گن شپ، جو ہیل فائر میزائلوں سے لیس ہوتا ہے، خطے میں استعمال ہونے والے انتہائی طاقتور اور خوفناک جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز میں گشت کرتے ہیں تاکہ چھوٹی کشتیوں کے حملوں کو روکا جا سکے اور ڈرونز کو مار گرایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکمت عملی کے تحت اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی حدود کے مزید قریب پروازیں کر رہے تھے، جن میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں واقع ایران کے زیرِ کنٹرول جزائر بھی شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں ایسے وقت جاری رہیں جب امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے وقفے وقفے سے مذاکرات بھی کرتے رہے۔

ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے جواب میں امریکا نے 13 اپریل کو اپنی جوابی پابندیاں عائد کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کے ایرانی بندرگاہوں میں داخلے اور وہاں سے روانگی پر پابندی لگا دی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کے بعد سے امریکی فوجی بحری جہاز 134 تجارتی کشتیوں اور جہازوں کو واپس موڑ چکے ہیں۔

سینٹ کام کے ایک بیان کے مطابق امریکی بحریہ نے مزید سات ایسے جہازوں کو بھی ناکارہ بنایا جو امریکی انتباہات کے باوجود واپس نہیں لوٹے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles