
امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ایچ ون بی ویزوں پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا کے وفاقی جج لیو سوروکن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر غیر ملکی ورکرز کے لیے ایچ ون بی ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ یہ فیس دراصل ایک غیر قانونی ٹیکس کی مانند ہے جسے لگانے کی منظوری امریکی پارلیمنٹ یعنی کانگریس نے کبھی نہیں دی، اس لیے امریکی محکمہ خارجہ اور امیگریشن کے ادارے اس فیس کو نافذ نہیں کر سکتے۔
یہ مقدمہ 20 ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس میں صدر ٹرمپ کے ستمبر میں کیے گئے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
جج لیو سوروکِن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اس ادائیگی کی حقیقت اور اس کا طریقہ کار یہ بتاتا ہے کہ یہ ایک ٹیکس ہے، چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق صدر کے پاس امیگریشن قانون کے تحت ایسے ٹیکس لگانے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا عدالت میں یہ موقف تھا کہ یہ فیس دراصل ایک قانونی جرمانہ ہے جو صدر مملکت امیگریشن کے وفاقی قوانین کے تحت لگا سکتے ہیں، کیونکہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ امریکی مفادات کے خلاف کسی بھی غیر ملکی کے داخلے پر پابندی لگا سکیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر روجرز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو پورا یقین ہے کہ اس عدالتی فیصلے کو اپیل کے ذریعے اعلیٰ عدالت میں منسوخ کروا دیا جائے گا۔
امریکا کے موجودہ قانون کے مطابق ایچ ون بی پروگرام کے تحت ہر سال پینسٹھ ہزار ویزے عام کوٹے کے لیے اور بیس ہزار ویزے اعلیٰ ڈگری ہولڈرز کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس نئے اعلان سے پہلے، کمپنیوں کو عام طور پر دو ہزار سے پانچ ہزار ڈالر تک فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اس بھاری فیس کو نافذ کرتے وقت کہا تھا کہ اس ویزا پروگرام کا غلط استعمال کر کے امریکی شہریوں کی جگہ کم تنخواہ والے غیر ملکیوں کو دی جا رہی ہے، اس لیے امریکی ملازمتوں کا تحفظ ضروری ہے۔
اس قانونی مہم کی قیادت کرنے والے کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرل روب بونٹا نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ٹرمپ کے غیر قانونی اور انتہائی مہنگے ٹیکس کو ختم کر کے درست فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ ٹیکس دنیا بھر کے بہترین ہنرمندوں کو امریکا کی طرف راغب کرنے کی صلاحیت پر ایک حملہ تھا، جو ہماری معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔
اس بھاری فیس کے خلاف امریکی چیمبر آف کامرس سمیت دیگر اداروں کی جانب سے بھی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔